ڈرگ ڈیلر انمول پنکی سے متعلق تفتیش میں ایک نیا اور چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ مبینہ طور پر ملزمہ نے گرفتاری سے قبل اپنی شناخت چھپانے اور فرانزک شواہد کو متاثر کرنے کے لیے اپنے ہاتھ تیزاب سے جلانے کی کوشش کی تھی۔ پولیس اور تفتیشی ذرائع کے مطابق یہ قدم اس نے اس وقت اٹھایا جب اسے اپنی گرفتاری کا خطرہ محسوس ہوا اور وہ اپنی شناخت کو مزید پیچیدہ بنانا چاہتی تھی۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ انمول پنکی نہ صرف منظم منشیات نیٹ ورک چلا رہی تھی بلکہ گرفتاری سے بچنے کے لیے انتہائی غیر معمولی اور خطرناک طریقے بھی اختیار کرتی رہی۔ ذرائع کے مطابق اس نے اپنے ہاتھوں کی جلد اور انگلیوں کے نشانات کو تیزاب سے جلانے کی کوشش اس مقصد کے تحت کی تاکہ فنگر پرنٹس اور دیگر فرانزک شناختی شواہد کو ناقابلِ استعمال بنایا جا سکے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملزمہ جدید سائنسی تفتیشی طریقہ کار سے آگاہ تھی اور گرفتاری سے بچنے کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی رکھتی تھی۔
پولیس ذرائع کے مطابق چھاپے کے دوران جب اس کے ٹھکانوں کی تلاشی لی گئی تو وہاں سے بڑی تعداد میں چھوٹی ڈبیاں اور شیشیاں برآمد ہوئیں جن پر مختلف برانڈنگ اور کوئن میڈم پنکی ڈان جیسے نام درج تھے۔ تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمہ مبینہ طور پر اپنی شناخت اور نیٹ ورک کو مخصوص برانڈنگ کے ذریعے منظم کرتی تھی تاکہ اس کی مصنوعات مخصوص حلقوں میں پہچانی جا سکیں۔
مزید تحقیقات کے مطابق انمول پنکی مبینہ طور پر انتہائی مہنگی اور مخصوص معیار کی کوکین تیار کرتی تھی جسے وہ گولڈ کے نام سے مارکیٹ کرتی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ خود ہی نئی تیار ہونے والی مصنوعات کو پہلے استعمال کر کے اس کے معیار کا جائزہ لیتی تھی، جس کے بعد اس کی پیکنگ اور ترسیل کا عمل شروع کیا جاتا تھا۔
تفتیشی رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمہ نے لاہور اور کراچی میں خفیہ لیبارٹریاں قائم کر رکھی تھیں جہاں مبینہ طور پر منشیات کی تیاری اور پیکنگ کا عمل جاری رہتا تھا۔ کراچی کا نیٹ ورک زیادہ فعال بتایا جا رہا ہے جبکہ بڑی مقدار میں پیداوار لاہور میں کی جاتی تھی۔ حکام کے مطابق یہ نیٹ ورک انتہائی منظم اور بااثر تھا جس کے باعث اس کی گرفتاری ایک مشکل آپریشن تصور کیا جا رہا تھا۔

