بچے کی بصارت متاثر ہونے کے باعث وہ دیکھ کر نہیں سیکھ سکتا تھا، اس لیے اس نے مکمل طور پر سماعت پر انحصار کیا اور روزانہ کی بنیاد پر آیات کو بار بار سن کر یاد کیا۔ مسلسل محنت، توجہ اور صبر نے اسے یہ عظیم کامیابی کم عمری میں حاصل کرنے میں مدد دی۔
اس انوکھے کارنامے کی خبر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی، جہاں صارفین نے اس کے جذبے، حوصلے اور لگن کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔ لوگوں نے اسے “حوصلہ اور استقامت کی مثال” قرار دیا۔
سوشل میڈیا صارفین نے یہ بھی کہا کہ اس واقعے سے ثابت ہوتا ہے کہ ریڈیو اور آڈیو لرننگ جیسے آسان ذرائع بھی تعلیم میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، خاص طور پر ان بچوں کیلئے جو جسمانی طور پر محدودیت کا شکار ہوں۔
مذہبی اسکالرز اور صارفین نے بھی بچے کی غیر معمولی یادداشت اور نظم و ضبط کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ایمان، محنت اور استقامت کی روشن مثال ہے۔یہ کہانی اس بات پر بھی بحث کو جنم دے رہی ہے کہ دنیا بھر میں نابینا اور خصوصی بچوں کیلئے مزید بہتر اور قابل رسائی تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں۔