امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کا دو روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد بیجنگ سے روانہ ہو گئے ہیں تاہم اس دورے کے نتائج اور اثرات پر عالمی سطح پر مختلف آراء اور تجزیے سامنے آ رہے ہیں۔
دورے کے دوران صدر ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ سمیت اعلیٰ چینی قیادت سے ملاقاتیں کیں، جبکہ وفود کی سطح پر بھی اہم مذاکرات ہوئے جن میں تجارت علاقائی سلامتی اور توانائی کے معاملات پر گفتگو کی گئی۔
امریکی صدر کے مطابق ان ملاقاتوں میں ایران کے معاملےآبنائے ہرمز کی صورتحال اور عالمی توانائی کی ترسیل پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھا جانا ضروری ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ چین کے ساتھ تجارتی شعبے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کے دورہ چین کے بعد پاکستان کے وزیراعظم کے دورہ چین کی تیاریاں،شہباز شریف بھی منتظر
دوسری جانب چینی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے عالمی طاقتوں کے کردار پر بات کرتے ہوئے امریکا کو بعض عالمی پالیسیوں کے تناظر میں زوال پذیر قرار دیا جس کے بعد اس بیان نے بین الاقوامی سطح پر بحث کو جنم دیا ہے۔
دورے کے دوران دونوں رہنماؤں کی ملاقات کی تصاویر اور ویڈیوز بھی زیر بحث رہیں جن میں بعض تجزیہ کاروں کے مطابق شی جن پنگ کا انداز نسبتاً محتاط جبکہ ٹرمپ کا رویہ زیادہ پرجوش دکھائی دیا۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ملاقات کے دوران مصافحے اور باڈی لینگوئج کو لے کر مختلف تشریحات سامنے آ رہی ہیں۔

