آیت اللہ خامنہ ای پر حملے کے وقت عباس عراقچی کہاں غائب تھے ، بڑا راز کھل گیا

آیت اللہ خامنہ ای پر حملے کے وقت عباس عراقچی کہاں غائب تھے ، بڑا راز کھل گیا

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اس وقت ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر میں موجود تھے جب وہاں حملہ ہوا اور وہ ملبے سے نکل کر محفوظ مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

ایک انٹرویو کے دوران عباس عراقچی نے حملے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ حملے کے وقت وہ سپریم لیڈر کے دفتر میں موجود تھے۔ ان کے مطابق حملے کے بعد عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور وہ ملبے کے درمیان سے نکل کر باہر آئے  تاہم انہوں نے حملے کے نتیجے میں ہونے والے جانی یا مالی نقصانات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے گفتگو کے دوران ایران اور امریکا کے تعلقات پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں آیت اللہ خامنہ ای اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کسی ممکنہ ملاقات کا تصور حقیقت پسندانہ نہیں لگتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ خطے اور عالمی سیاست کے حوالے سے زمینی حقائق کو درست انداز میں نہیں دیکھ رہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ کب ہوگی؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں

عباس عراقچی نے خطے میں ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کی اہمیت پر بھی زور دیا انہوں نے کہا کہ سعودی عرب مشرقِ وسطیٰ کا ایک اہم اور بااثر ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات پورے خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ مثبت اور تعمیری تعلقات کا خواہاں رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون نہ صرف دوطرفہ مفاد بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔

دوسری جانب روسی میڈیا کی بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے تقریباً 50 لڑاکا طیاروں کے ذریعے آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر کو نشانہ بنایا تھا۔ تاہم اس دعوے کی ابھی تک کسی آزاد یا بین الاقوامی ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے جس کے باعث اس حوالے سے مختلف سوالات اور قیاس آرائیاں برقرار ہیں۔

editor

Related Articles