ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ کب ہوگی؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ کب ہوگی؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں

ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے اور تدفین کی تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے. سکیورٹی خدشات اور جنگی صورتحال کے باعث کئی ماہ تک مؤخر رہنے والی آخری رسومات اب رواں ماہ منعقد کیے جانے کا امکان ہے جس میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای رواں سال 28 فروری کو اسرائیل اور امریکا کے مبینہ مشترکہ فضائی حملوں میں شہید ہوئے تھے جس کے بعد ملک میں غیر معمولی سکیورٹی حالات کے پیش نظر جنازے اور تدفین کی تقریبات کو فوری طور پر منعقد نہیں کیا جا سکا۔ حکام کا مؤقف ہے کہ عوام کی بڑی تعداد کی محفوظ شرکت کو یقینی بنانے اور انتظامی امور مکمل کرنے کے لیے وقت درکار تھا۔

رپورٹس کے مطابق تہران کی اسلامی رابطہ کونسل اور دیگر متعلقہ ادارے جنازے کے انتظامات میں مصروف ہیں۔ اسلامی رابطہ کونسل کے سربراہ محسن محمودی نے کہا ہے کہ تقریب کے لیے وسیع پیمانے پر انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ملک بھر سے آنے والے شہری بھرپور انداز میں شرکت کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے استعفی دے دیا ؟ حکومت کا ردعمل آگیا

ایرانی میڈیا کے مطابق نماز جنازہ کی ممکنہ تاریخ 14 سے 17 جون کے درمیان زیر غور ہے تاہم حتمی اعلان سکیورٹی اور انتظامی جائزے مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جنازے کی تاریخ کے باضابطہ اعلان کے ساتھ ہی ملک بھر میں خصوصی انتظامات اور عوامی شرکت کے حوالے سے تفصیلات بھی جاری کی جائیں گی۔

 اگر یہ تقریب طے شدہ منصوبے کے مطابق منعقد ہوتی ہے تو یہ ایران کی حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے عوامی اجتماعات میں سے ایک ثابت ہو سکتی ہے۔ ایرانی حکام اسے قومی اتحاد، مزاحمت اور ریاستی استحکام کے اظہار کے طور پر بھی پیش کر رہے ہیں۔

دوسری جانب بین الاقوامی مبصرین اس پیش رفت کو خطے کی بدلتی سیاسی و سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دے رہے ہیں جبکہ دنیا بھر کی نظریں اب ایران کی جانب سے جنازے اور تدفین کی حتمی تاریخ کے اعلان پر مرکوز ہیں۔

editor

Related Articles