شعیب ملک نے ڈومیسٹک کرکٹ ڈھانچے میں انقلابی اصلاحات پیش کردیں

شعیب ملک نے ڈومیسٹک کرکٹ ڈھانچے میں انقلابی اصلاحات پیش کردیں

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز آل راؤنڈر شعیب ملک نے ملک میں ٹیسٹ کرکٹ کے گرتے ہوئے معیار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی بحالی کے لیے ایک جامع اورعملی حل پیش کر دیا ہے۔

شعیب ملک کا ماننا ہے کہ اگر پاکستان کو طویل فارمیٹ میں اپنا کھویا ہوا مقام واپس پانا ہے، تو ڈومیسٹک ریڈ بال (سرخ گیند) کے ڈھانچے میں فوری اور بڑی اصلاحات کرنا ہوں گی۔

ریڈ بال اسپیشلسٹس کے لیے مالی مراعات کا مطالبہ

پاکستان کے لیے 35 ٹیسٹ، 287 ون ڈے اور 124 ٹی20 میچز کھیلنے والے سابق کپتان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ حکام کو ’ریڈ بال اسپیشلسٹس‘ (طویل فارمیٹ کے ماہر کھلاڑیوں) کو ترجیح دینی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان کھلاڑیوں کے لیے بہتر سینٹرل کنٹریکٹس اور پرکشش مالی مراعات انتہائی ضروری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:شعیب ملک کی مریم نواز سے ایسی درخواست جس نے سب کو حیران کر دیا

شعیب ملک نے اپنی تجویز کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ’اگر ہم ریڈ بال کرکٹ کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں، تو ہمیں ماہر کھلاڑیوں کو پرکشش ڈومیسٹک کنٹریکٹس دینے ہوں گے۔ مالی تحفظ ملنے سے کھلاڑی فرسٹ کلاس کرکٹ سے جڑے رہیں گے اور دنیا بھر کی فرنچائز لیگز کی طرف ان کا غیر ضروری جھکاؤ کم ہوگا‘۔

ہر سیزن 5 فرسٹ کلاس میچز کی شرط اور کارکردگی کا تحفظ

شعیب ملک نے تجویز دی کہ مالی طور پر مستحکم کرنے کے بدلے کھلاڑیوں پر یہ پابندی عائد ہونی چاہیے کہ وہ ہر سیزن میں کم از کم 5 فرسٹ کلاس میچز لازمی کھیلیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے نہ صرف ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار بلند ہوگا بلکہ کھلاڑی فرنچائز کرکٹ (ٹی ٹونٹی لیگز) کے دباؤ میں آ کر اپنی قدرتی کھیلنے کی صلاحیت کو تبدیل کرنے سے بھی بچ جائیں گے۔

سابق کپتان نے ڈومیسٹک اور بین الاقوامی کرکٹ کے فرق کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ دونوں سطح کے تقاضوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ بین الاقوامی سطح پر آدھی تیاری کے ساتھ کامیابی ممکن نہیں، پاکستان کو آگے بڑھنے کے لیے مکمل طور پر تیار، ذہنی طور پر مضبوط اور پرعزم کھلاڑیوں کی ضرورت ہے۔

بنگلہ دیش کے ہاتھوں تاریخی شکست

شعیب ملک کی جانب سے یہ اہم تجاویز ایک ایسے نازک وقت پر سامنے آئی ہیں جب پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔

حال ہی میں شان مسعود کی قیادت میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو ہوم گراؤنڈ پر بنگلہ دیش کے خلاف 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز میں ’وائٹ واش‘ (2-0 سے شکست) کا سامنا کرنا پڑا۔ ہوم گراؤنڈ پر بنگلہ دیش کے ہاتھوں اس عبرتناک شکست نے پاکستان کے ڈومیسٹک نظام اور کھلاڑیوں کی تکنیک پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس کے بعد کرکٹ حلقوں میں تبدیلیوں کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

کیا شعیب ملک کا فارمولا کارگر ثابت ہو سکتا ہے؟

شعیب ملک کی تجاویز پاکستان کرکٹ کے موجودہ سب سے بڑے مسئلے یعنی ’ٹی 20 لیگز کے گلیمر اور پیسے‘ کی وجہ سے ٹیسٹ کرکٹ کو ہونے والے نقصان کی نشاندہی کرتی ہیں۔

موجودہ دور میں نوجوان کھلاڑی فرسٹ کلاس (چار روزہ) کرکٹ کی محنت سے بچنے اور جلد پیسہ کمانے کے لیے ٹی ٹونٹی فارمیٹ کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے پاکستان کو طویل فارمیٹ کے اچھے بلے باز اور باؤلرز ملنا بند ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیں:’شاداب خان ٹی ٹوئنٹی کی کپتانی کے لیے زیر غور ہیں‘ — سابق کپتان شعیب ملک کا دعویٰ

اگر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) شعیب ملک کی اس تجویز پر عمل کرتے ہوئے فرسٹ کلاس کرکٹ کے میچ فیس اور سینٹرل کنٹریکٹ کی رقم میں اتنا اضافہ کر دے کہ وہ پی ایس ایل یا دیگر غیر ملکی لیگز کے برابر ہو جائے، تو کھلاڑیوں کا رجحان دوبارہ ٹیسٹ کرکٹ کی طرف مائل کیا جا سکتا ہے۔  تاہم اس کے لیے پی سی بی کو بھاری فنڈز مختص کرنے اور ڈومیسٹک کرکٹ کے پورے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی۔

Related Articles