پیٹنٹ تفصیلات کے مطابق یہ ’ان وہیکل ٹوائلٹ‘ خاص طور پر طویل سفر، کیمپنگ اور گاڑی میں زیادہ وقت گزارنے والے مسافروں کی سہولت کے لیے تیار کیا گیا ہے۔یہ نظام مکمل طور پر آواز کے ذریعے کنٹرول ہوتا ہے اور ضرورت پڑنے پر سیٹ کے نیچے سے باہر آ جاتا ہے۔ استعمال کے بعد فضلہ ایک مخصوص ٹینک میں جمع کیا جاتا ہے۔
اس ٹینک میں ایک جدید گھومنے والا ہیٹنگ سسٹم شامل ہے جو مائع فضلے کو بخارات میں تبدیل کرتا ہے جبکہ ٹھوس فضلہ کو خشک کر دیتا ہے۔ اس کے ساتھ بدبو ختم کرنے کے لیے ایک ایگزاسٹ فین بھی نصب کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی نے ابھی تک ایسی کسی گاڑی کا اعلان نہیں کیا جس میں یہ ٹیکنالوجی دستیاب ہو، تاہم یہ تصور مستقبل کی گاڑیوں میں نئی سہولتوں کی سمت ایک قدم سمجھا جا رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سیریس اس طرح کا آئیڈیا پیش کرنے والی پہلی کمپنی نہیں۔ اس سے پہلے بھی کچھ کمپنیوں نے محدود پورٹیبل ٹوائلٹ سسٹمز متعارف کرائے ہیں۔مزید یہ کہ 1954 کی کلاسک رولس رائس سلور ریتھ لائموزن میں بھی سونے سے مزین ٹوائلٹ موجود تھاجو بعد میں نیلامی میں بھی خبروں کی زینت بنا۔یہ نیا پیٹنٹ آٹو انڈسٹری میں عجیب مگر دلچسپ جدت کی ایک اور مثال بن گیا ہے۔