وزیرِاعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے پاکستان اور چین کے درمیان تاریخی، اسٹریٹجک اور پائیدار دوستی کو ’ایسا منفرد رشتہ قرار دیا ہے جو باہمی اعتماد، احترام اور خلوصِ نیت پر قائم ہے‘۔
چین کی تیاجن یونیورسٹی میں طلبا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے چین کے اعلیٰ حکام، اساتذہ، چینی و پاکستانی طلبا، چینی سفیر اور پاکستانی وفاقی وزرا کی موجودگی میں دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی اور سفارتی تعلقات کو سراہا۔
انہوں نے کہاکہ اس عظیم درسگاہ میں ایک بار پھر آنا میرے لیے باعثِ مسرت ہے،اس سے قبل 2017 میں اپنے سابقہ یادگار دورے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے یونیورسٹی کے علمی ماحول اور پاکستانی طلبا کی بڑی تعداد کی یہاں موجودگی کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ یہاں پاکستان کے مختلف حصوں سے 200 سے زیادہ طلبا موجود ہیں۔ آپ ہمارے سفیر ہیں اور آپ کی موجودگی پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط تعلیمی تعلقات کی عکاس ہے‘۔
انہوں نے طلبا پر زور دیا کہ وہ چین میں قیام کے دوران جدید تعلیم اور مہارتیں حاصل کریں، محنت، وقت کی پابندی اور عزم کے ساتھ خود کو علم سے لیس کریں اور وطن واپسی پر ’پاکستان کے معمار اور پاک چین دوستی کے علمبردار‘ بنیں‘۔
وزیرِاعظم نے پاکستان اور چین کے تعلقات کی گہری تاریخی جڑوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعلقات اتنے ہی پرانے ہیں جتنی قدیم شاہراہِ ریشم، جہاں تاجر اور راہب نہ صرف مال تجارت بلکہ خیالات بھی ساتھ لایا کرتے تھے۔
انہوں نے دوطرفہ تعلقات کے چند اہم سنگِ میل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان وہ پہلا مسلم ملک تھا جس نے عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا‘۔
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی پہلی بین الاقوامی پرواز بیجنگ کے لیے روانہ ہوئی تھی اور پاکستان کے ایک رہنما چین کے بانی رہنما ماؤزے تنگ کے آخری غیرملکی مہمان تھے، جو دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کی علامت ہے۔
علامہ اقبالؒ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ اقبالؒ نے ایک صدی قبل چین کے ابھرنے کی پیش گوئی کی تھی۔ ’اقبالؒ نے چین کی صلاحیتوں کو ہمالیہ کے چشموں سے تشبیہ دی جو جوش، جذبے اور عزم سے لبریز ہیں۔ آج یہ پیش گوئی سچ ثابت ہو چکی ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین کی ترقی کو سراہا، خاص طور پر غربت کے خاتمے کے میدان میں۔ ’8 سو ملین افراد کو غربت سے نکالنا کوئی معمولی بات نہیں، یہ انسانیت کی تاریخ کا ایک عظیم کارنامہ ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ صدر شی کی ’عوام دوست اور بصیرت افروز پالیسیوں‘ نے نہ صرف چین بلکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی ایک رہنما اصول فراہم کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہاکہ ’چین کا ایک عالمی معاشی طاقت بن کر ابھرنا ترقی پذیر اقوام کے لیے ایک امید کی کرن ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ طویل المدتی منصوبہ بندی اور عوامی فلاح کو مرکز بنانے والی پالیسیوں سے کیسے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے‘۔
کرپشن کا کوئی الزام نہیں، شہبازشریف
انہوں نے پاکستان کی حکومت کی معاشی کامیابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو ملک انتہائی مالی مشکلات کا شکار تھا، آج ہم تیزی کے ساتھ معاشی ترقی کی جانب گامزن ہیں، انہوں نے کہا دعوے سے کہا کہ آج ہماری حکومت پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے۔ جو شفافیت، محنت اور ایمانداری کی علامت ہے۔
وزیرِاعظم نے تعلیم اور مہارت کی ترقی کو قومی ترقی کا ستون قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ ان کی حکومت نے 1000 زرعی گریجویٹس کو چین بھیجا ہے تاکہ وہ جدید زرعی تکنیک سیکھ کر وطن واپس آ کر کسانوں کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے 600 طلبا و طالبات نے تربیت مکمل کرلی ہے یا کر رہے ہیں۔
انہوں نے چینی اداروں سے پاکستان میں ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز قائم کرنے میں مدد کی درخواست کی، تاکہ نوجوانوں کو ہنر مند بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کا جمِ غفیر ہمارے لیے ایک چیلنج ہی نہیں بلکہ ایک موقع بھی ہے اور ہم اسے موقع میں بدلیں گے۔
وزیرِاعظم نے ہواوے جیسی کمپنیوں کے تعاون کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مزید چینی کمپنیاں پاکستان میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تربیت کے منصوبوں میں شراکت کریں گی۔
خطاب کے اختتام پر وزیرِاعظم نے عظیم چینی فلسفی کنفیوشس کا قول نقل کیا اور کہا کہ ’ جو مضبوط، سادہ، دیرپا اور خاکسار ہو، وہی فضیلت کے قریب ہوتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ پاک-چین دوستی کی تاریخ میں مضبوطی، سادگی، استقامت اور وفاداری جیسی خوبیاں ہی فضیلت رکھتی ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ہماری سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ قریب ہے اور اب اس عظیم دوستی کی ذمہ داری ہمارے نوجوانوں، پاکستانیوں اور چینی عوام کے کاندھوں پر ہے آئیں اُسے فخر سے آگے لے کر جائیں‘۔
خطاب کے اختتام پرانہوں نے ہر سطح پر پاکستان اور چین کی دوستی کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، خصوصاً تعلیم، ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے اور عوامی روابط کے میدان میں۔