آزاد جموں و کشمیر پولیس نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران امن و امان کو نقصان پہنچانے اور عوامی زندگی میں خلل ڈالنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کرتے ہوئے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے وابستہ تقریباً 72 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جس پر “را” کے پالتو صحافی ادتیہ راج کال کی عوامی ایکشن کمیٹی کے حق میں چیخیں مارنے لگے ہیں۔
‘را’ کے پالتو صحافی ادتیہ راج کول کی جانب سے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف کی گئی کاروائی پر پاکستان اور پاک فوج کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔
‘را’ کے پالتو صحافی ادتیہ راج کول نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان آرمی مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کے خلاف سخت فورس استعمال کرنے کی پلاننگ کر رہی ہے، جس کے باعث نیلم ویلی اور دیگر علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے اور سیاحوں کے داخلے پر پابندی لگائی گئی ہے۔
ادتیہ راج کول نے ایکس (سابق ٹویٹر) پر لکھا کہ ’پاکستان آرمی ممکنہ طور پر غیر مسلح عام شہریوں کے خلاف جارحانہ اقدامات کر سکتی ہے، اسی لیے آزاد کشمیر میں سیاحوں کی آمد بند کر دی گئی ہے، انٹرنیٹ سروس محدود یا روکی جا رہی ہے اور احتجاج کرنے والے شہری گروہوں کو ’دہشت گرد‘ تنظیم قرار دیا جا رہا ہے۔’