خیبر پختونخوا اور فاٹا کے عوام نے افغان سرزمین سے پاکستان کے سرحدی علاقوں پر ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملوں کی زوردار مذمت کی اور پاک فوج سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
مقامی رہائشیوں نے شمالی و جنوبی وزیرستان، دیر، کوہاٹ اور دیگر متاثرہ علاقوں سے یکجا ہو کر دہشت گردی کے خلاف اپنا موقف واضح کیا۔
عوام نے کہا کہ سرحد پار سے ہونے والے حملے معصوم شہریوں اور علاقے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور اس طرح کے اقدامات کو کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
مقامی لوگ حکومتی اور دفاعی اداروں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ عوام کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور سرحدی تشدد کو مؤثر طریقے سے روکا جائے۔
شہریوں نے فغانستان کی سرزمین سے کی جانے والی فائرنگ اور حملوں کی سخت مخالفت کی ایک مقامی باشندے نے کہا ہم ان حملوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ہمیں اپنے گھر، زمین اور بچوں کی حفاظت چاہیے ۔
دیگر افراد نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کی طرف مہربانی اور مہمان نوازی دیکھی ہے مگر اس کے باوجود سرحد پار سے حملے کیے جا رہے ہیں جنہیں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
عوام نے کہا کہ ایسے حملوں کے پیچھے بیرونی سازشیں ہو سکتی ہیں اور مقامی سماج میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے اس لیے پوری قوم کو متحد ہو کر اس خطرے کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
متعدد مقامات پر لوگوں نے پاک فوج کے حق میں نعرے لگائے اور فوج کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا بیانات میں یہ بھی زور دیا گیا کہ جو بھی عناصر پاکستان اور اس کے سکیورٹی اداروں کے خلاف سازش کریں انہیں منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
ساتھ ہی رہائشیوں نے اپیل کی کہ سیاسی رہنماؤں اور بین الاقوامی برادری کو اس صورتحال کی طرف توجہ دینا چاہیے تاکہ سرحدی تنازعات کو تشدد میں بدلنے سے روکا جا سکے۔