سائنس دانوں کی ایک نئی تحقیق میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ اگر مستقبل میں کوئی خطرناک سیارچہ زمین سے ٹکرانے کے قریب ہو اور اس سے نمٹنے کے لیے وقت انتہائی کم رہ جائے تو اس کے اندر ایٹم بم نصب کرکے دھماکا کرنا زمین کو ممکنہ تباہی سے بچانے کا مؤثر طریقہ ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق فی الحال ایسا کوئی معلوم سیارچہ موجود نہیں جو مستقبل قریب میں زمین کے لیے براہِ راست خطرہ بن رہا ہو۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ خلا میں موجود لاکھوں چھوٹے بڑے سیارچوں میں سے کسی نئے خلائی پتھر کی دریافت کسی بھی وقت ہو سکتی ہے، جس کے بعد انسانوں کے پاس ردعمل کے لیے صرف چند دن یا محدود وقت باقی رہ سکتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق زمین کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مختلف دفاعی حکمتِ عملیوں پر مسلسل تحقیق جاری ہے۔ ان میں سیارچے کا رخ تبدیل کرنا، اسے زمین سے دور دھکیلنا یا مکمل طور پر تباہ کرنا جیسے طریقے شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی خطرناک سیارچے کا بروقت پتا چل جائے تو خلائی مشن بھیج کر اس کا راستہ تبدیل کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں بعض تجربات کے ذریعے ثابت کیا جا چکا ہے۔ تاہم اگر وقت بہت کم ہو تو ایسے روایتی طریقے مؤثر ثابت نہیں ہوں گے۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایسی ہنگامی صورتِ حال میں سیارچے کے اندر ایٹم بم نصب کرکے اندرونی دھماکا کرنا ایک مؤثر متبادل ہو سکتا ہے۔ اس طریقۂ کار کا مقصد سیارچے کو اندر سے توڑنا یا اس کی سمت تبدیل کرنا ہوگا تاکہ وہ زمین سے ٹکرانے سے پہلے ہی اپنا راستہ بدل لے۔
سائنس دانوں نے واضح کیا ہے کہ یہ تجویز فی الحال نظریاتی تحقیق پر مبنی ہے اور اس پر عملی طور پر عمل درآمد سے پہلے مزید سائنسی تحقیق، تجربات اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہوگی۔