ضم اضلاع کی ترقی کیلئے وفاق کا دس سالہ وعدہ، ابتک کتنا فنڈ جاری ہوا؟

ضم اضلاع کی ترقی کیلئے وفاق کا دس سالہ وعدہ، ابتک کتنا فنڈ جاری ہوا؟

خیبرپختونخوا میں سابق فاٹا کے انضمام کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے دس سالوں تک ہر سال 100 ارب روپے ترقیاتی کاموں کے لیے جاری کرنے کا وعدہ ایفا نہ ہوسکا۔ سات سال گزرنے کے باوجود وفاق کی جانب سے صوبے کو 700 ارب روپے دینے تھے، لیکن اس دوران صرف 24 فیصد فنڈز ہی صوبے کو دیے گئے ہیں۔

سابق فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے وقت وفاقی حکومت نے ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے ایک ہزار ارب روپے دس سالوں کے دوران دینے کا وعدہ کیا تھا۔ دستاویزات کے مطابق سات سالوں کے دوران وفاقی حکومت نے مجموعی طور پر 215 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے، مگر خیبرپختونخوا کو صرف 168 ارب 10 کروڑ روپے ہی جاری کیے گئے۔ اس کے برعکس صوبائی حکومت نے ضم اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایکسلیریٹڈ امپلی مینٹیشن پروگرام (اے آئی پی) کے تحت 172 ارب 60 کروڑ روپے خرچ کیے۔

 

سال وار تفصیلات:
مالی سال 2018-19 میں وفاق نے 10 ارب روپے مختص کیے اور اتنی ہی رقم جاری کی، صوبائی حکومت نے یہ رقم مکمل طور پر خرچ بھی کی۔

مالی سال 2019-20 میں 48 ارب روپے مختص کیے گئے جن میں سے 23 ارب جاری ہوئے جبکہ صوبائی حکومت نے 24 ارب روپے خرچ کیے۔

2020-21 میں 24 ارب روپے مختص اور مکمل ریلیز ہوئے، تاہم حکومت نے 27 ارب 50 کروڑ روپے خرچ کیے۔

2021-22 میں 30 ارب روپے مختص ہوئے، 25 ارب 50 کروڑ ریلیز کیے گئے، جبکہ خرچ 36 ارب 50 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔

2022-23 میں وفاق نے 30 ارب روپے رکھے، 18 ارب 50 کروڑ ریلیز کیے، اور صوبائی حکومت نے 11 ارب 50 کروڑ روپے خرچ کیے۔

2023-24 میں 31 ارب روپے مختص ہوئے، 24 ارب 80 کروڑ ریلیز ہوئے، جبکہ خرچ 33 ارب 30 کروڑ روپے تک جا پہنچا۔

مالی سال 2024-25 میں 42 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے جو مکمل طور پر جاری کیے گئے، تاہم صوبائی حکومت نے 29 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فاٹا کا انضمام غلط فیصلہ تھا، سیاستدانوں کو تسلیم کرلینا چاہئے، مولانا فضل الرحمن

وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز کی جزوی فراہمی کے باعث کئی ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ہوئے۔ اس کے باوجود صوبائی حکومت نے ضم اضلاع میں ترقیاتی عمل کو جاری رکھنے کے لیے اپنے وسائل سے اضافی اخراجات کیے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *