اقوام متحدہ کی جانب سے ایک رپورٹ میں ماہرین نے اس بار سردیاں شدید اور طویل ہونے کے خدشے کا اظہارکیا ہے ۔
رپورٹ کے مطابق رواں برس کئی دہائیوں بعد سردیاں بہت شدید ہونے کا خدشہ ہے، شدید سرد موسم خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں سیلاب متاثرہ خاندانوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔
ان کاکہنا تھا کہ سرد موسم کی وجہ سے خریف کی فصلوں کی کٹائی میں طوفانی بارشوں سے رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں، بالائی علاقوں میں گلیشیئر جھیل پھٹنے کے خدشات بڑھ سکتے ہیں، دریاؤں میں پانی کی کمی سے آب پاشی کے نظام پر اثر پڑسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ معمول سے زیادہ سردی موسمی تبدیلی لانینا کی وجہ سے پڑنے کا امکان ہے، لانینا اس وقت بنتا ہے جب بحرالکاہل میں سطح سمندر کا درجہ حرارت غیر معمولی طور پر کم ہو جاتا ہے، یہی لالینا دنیا بھر کے موسم پر اثرانداز ہوتا ہے۔
ماہرین کی پیشگوئی اگر درست ثابت ہوئی، تو اس بار سردی نہ صرف جلد شروع ہو گی بلکہ طویل اور شدید بھی ہو سکتی ہے , ایسے میں ضروری ہے کہ عوام پیشگی تیاریاں کریں، خاص طور پر بچے، بزرگ اور وہ علاقے جہاں سردی کی شدت معمول سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
تازہ ترین موسمی جائزوں کے مطابق، درجہ حرارت میں غیرمعمولی کمی، بارشوں میں اضافہ اور سرد ہواؤں کا دورانیہ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ، ایسی صورتحال نہ صرف روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتی ہے ، بلکہ گیس و بجلی کی طلب میں اضافے، بیماریوں کے پھیلاؤ اور نقل و حرکت میں مشکلات کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
ہم آپ کو آنے والی موسمی صورتحال سے باخبر رکھتے رہیں گے، تب تک موسم کی ہر کروٹ پر نظر رکھیں اور گرم کپڑے نکال لیں، سردی دروازے پر ہے۔