میرپور: کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے سرگرم رکن اور خواجہ مہران کے قریبی ساتھی عثمان مشتاق نے تنظیم سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے اس کے تمام سرگرمیوں اور نظریات سے خود کو الگ کر لیا ہے۔
عثمان مشتاق نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ خواجہ مہران کے ہمراہ راولاکوٹ دھرنے میں شریک ہوئے تھے، تاہم وہاں کے حالات کا قریب سے مشاہدہ کرنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ تنظیم اپنے ابتدائی دعووں اور عوامی حقوق کے ایجنڈے سے ہٹ چکی ہے۔
عثمان نے کہا کہ ابتدا میں عوامی ایکشن کمیٹی آٹا، بجلی اور ہیلتھ کارڈ جیسے عوامی مسائل پر آواز اٹھا رہی تھی، جس کی بنیاد پر انہوں نے اس کا ساتھ دیا لیکن بعد ازاں یہ واضح ہو گیا کہ تنظیم کا موجودہ طرزِ عمل اور سرگرمیاں عوامی حقوق کے بجائے کسی اور ایجنڈے کی عکاسی کرتی ہیں۔
انہوں نے بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی قسم کے پروپیگنڈے یا اشتعال انگیزی کا حصہ نہ بنیں۔
اس سے قبل آزاد کشمیر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کو ایک اور بڑا جھٹکا لگا ہے جہاں برطانیہ میں مقیم ایکشن کمیٹی کے سربراہ راشد یوسف عرف راشو جٹ نے لاتعلقی کا اعلان کردیا ہے ۔
اس سے قبل فیصل جمیل کاشمیری نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے پاکستان مخالف بیانیے اور ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ پروپیگنڈے سے اختلاف کرتے ہوئے تنظیم سے علیحدگی کا فیصلہ کیا تھا ، ان کی علیحدگی کو تنظیم کے لیے ایک اہم نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔
علاوہ ازیں مظفرآباد کے علاقے گڑھی دوپٹہ بازار چٹھیاں کے صدر انجمن تاجران شوکت کھوکھر بھی ویڈیو بیان کے ذریعے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے لاتعلقی کا اعلان کر چکے ہیں۔