وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ اور امریکی ناظم الامور انیٹلی بیکر سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں جن میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق ان ملاقاتوں میں پاکستان کی جانب سے برطانیہ اور امریکا کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
برطانیہ کے ساتھ تعلقات میں حالیہ پیش رفتوں میں پانچ سال بعد فضائی آپریشنز کی بحالی اور اسلام آباد میں آف ایکسی لینس کا قیام شامل ہے۔
یاد رہے کہ جولائی میں برطانیہ نے پاکستان کو اپنی ایئر سیفٹی لسٹ سے نکال دیا تھا جس کے بعد پی آئی اے کو دوبارہ برطانیہ میں پروازوں کی اجازت ملی۔
قومی ایئرلائن نے اسلام آباد سے مانچسٹر کے لیے پہلی پرواز روانہ کی جب کہ اگلے مرحلے میں برمنگھم اور لندن کے لیے سروسز شروع کی جائیں گی۔
امریکا کے ساتھ ملاقات میں سیکورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون پر گفتگو ہوئی۔ دونوں ممالک نے منشیات کی روک تھام، انسانی اسمگلنگ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان اشتراکِ عمل کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
وزیر داخلہ نے برطانوی تعاون سے قائم سینٹر آف ایکسی لینس کو پاکستانی اداروں کی صلاحیت میں اضافہ کے لیے اہم سنگِ میل قرار دیا اور کہا کہ یہ مرکز قانونی معاونت اور حوالگی کے معاملات میں تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا۔
امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکا، سیکورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کے میدان میں پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا دونوں سفیروں نے پاک بحریہ کی حالیہ انسدادِ منشیات کارروائی کو بھی سراہا ۔