معروف جریدے ’منٹ میرر‘ کی معروف تجزیہ کار، صحافی زرتاج چوہدری نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ’پاکستان کے ہجوم زدہ ڈیجیٹل منظرنامے میں، جہاں قیاس آرائیاں، منفی پروپیگنڈا اکثر حقیقت پر سبقت لے جاتا ہے، آزاد فیکٹ چیک ایک مؤثر قوت کے طور پر ابھرا ہے جو غلط معلومات اور پروپیگنڈے کے خلاف صفِ اول کا کردار ادا کر رہا ہے۔
زرتاج چوہدری نے اپنے مضمون میں لکھا کہ ’آزاد ڈیجیٹل ایکو سسٹم کے تحت کام کرنے والا یہ پلیٹ فارم ایک آزاد ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے بڑھ کر تصدیق شدہ اور معتبر ادارے میں تبدیل ہو چکا ہے، ایک ایسی تبدیلی جو افراتفری کے دور میں ساکھ اور سچائی کی علامت بن چکی ہے‘۔
انہوں نے لکھا کہ ’ جب ہائبرڈ جنگ کا میدان جسمانی سے زیادہ معلوماتی سمتوں میں منتقل ہو چکا ہے، تو آزاد فیکٹ چیک جیسے پلیٹ فارم اب محض مبصر کے طور پر نہیں رہے بلکہ پاکستان کے بیانیے کے دفاع کے سرگرم فریق بن چکے ہیں۔ تحقیقاتی صحافت اور ڈیجیٹل فارنزک تجزیے کے امتزاج نے اس ادارے کو ایسی ساکھ دی ہے جو روایتی میڈیا ادارے ابھی حاصل نہیں کر سکے‘۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ’آزاد فیکٹ چیک کی باریک بینی سے کی گئی تحقیقات، جعلی ویڈیوز کی نشاندہی سے لے کر سرحد پار پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے کی حقیقت سامنے لانے تک، نے اسے عوامی اعتماد کے ساتھ ساتھ ریاستی سطح پر بھی ایک معتبر ادارہ بنا دیا ہے۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس ادارے کی کارکردگی کو باضابطہ تسلیم کیا جانا، ملک کے ڈیجیٹل استحکام کی سمت ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے‘۔
ادھر ’ماہرین کے مطابق آزاد فیکٹ چیک کا کردار صرف جھوٹی خبروں کی تردید تک محدود نہیں بلکہ یہ پاکستان کے ڈیجیٹل بیانیے کی نئی سمت متعین کر رہا ہے۔ مضمون کے مطابق اس کی ایک ٹوئٹر ہینڈل سے ادارہ بننے تک کی ترقی دراصل افراتفری کے دور میں سچائی کے ادارہ جاتی اعتراف کی علامت ہے‘۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے یہ تسلیم نہ اختتام ہے نہ انعام، بلکہ پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کا نقطۂ آغاز ہے، جہاں سچائی خود ایک قومی دفاعی نظریہ بن سکتی ہے‘۔