بھارت اور پاکستان کے درمیان کھیلوں کی سفارت کاری کو ایک اور دھچکا لگا ہے، جہاں بھارت نے نیپال کی نابینا خواتین کرکٹ ٹیم کے کوچ مسعود جان کو پاکستانی شہری ہونے کی وجہ سے ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ 11 نومبر سے بھارت اور سری لنکا میں شروع ہونے والے نابینا خواتین کرکٹ ورلڈ کپ سے چند روز قبل سامنے آیا ہے۔
پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل (پی بی سی سی) کے مطابق مسعود جان، جو کہ پاکستان کے سابق بین الاقوامی کرکٹر اور تمغہ امتیاز برائے حسن کارکردگی کے وصول کنندہ ہیں، نیپال کی نابینا خواتین کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے بھارت جانے والے تھے۔ تاہم بھارت کی جانب سے ویزا سے انکار کے باعث وہ ٹورنامنٹ میں اپنی ٹیم کے ساتھ شریک نہیں ہو سکیں گے، جس سے نیپال کی ٹیم کو ایونٹ سے محض چند دن قبل ایک مشکل صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ورلڈ کپ کا انعقاد ہائبرڈ فارمیٹ میں کیا جا رہا ہے کیونکہ اس میں پاکستان بھی شریک ہے۔ اگرچہ کچھ میچز سری لنکا میں کھیلے جائیں گے، مگر نیپال کے مقابلے بھارت میں طے ہیں، جس کے لیے مسعود جان کا بھارتی ویزا حاصل کرنا ضروری تھا۔
مسعود جان نابینا کرکٹ کے بانی کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں اور پاکستان میں کھیلوں کے حلقوں میں ایک عظیم قومی ہیرو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی نمائندگی بین الاقوامی سطح پر کی اور نابینا کرکٹ کو جنوبی ایشیا میں فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی عدم موجودگی نہ صرف نیپال کی ٹیم کے لیے نقصان دہ قرار دی جا رہی ہے بلکہ اس ایونٹ کی شمولیت، یکجہتی اور کھیل کی روح کے مقاصد پر بھی سوال اٹھا رہی ہے۔
پی بی سی سی نے بھارت کے فیصلے پر گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ‘بدقسمتی’ قرار دیا اور کہا کہ ‘سیاست کو کھیل پر حاوی نہیں ہونا چاہیے، خاص طور پر ایسے ایونٹ میں جو انسانی ہمت، قابلیت اور سرحد پار ہم آہنگی کا جشن منانے کے لیے منعقد کیا جا رہا ہو۔’
تنازع کے باوجود نابینا خواتین کرکٹ ورلڈ کپ مقررہ وقت پر منعقد کیا جائے گا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مسعود جان جیسے باعزت اور سینئر شخصیت کی غیر موجودگی ایونٹ کے آغاز پر ایک سائے کی طرح چھائی رہے گی اور یہ واقعہ ایک بار پھر کھیل اور سیاست کے باہمی تعلق پر سوالات اٹھائے گا۔