27 ویں آئینی ترمیم اور آرٹیکل 243 کے حوالے سے پراپیگنڈا اور اصل حقائق

27 ویں آئینی ترمیم اور آرٹیکل 243 کے حوالے سے پراپیگنڈا اور اصل حقائق

آئین پاکستان کے آرٹیکل 243 میں آرمڈ فورسز کا ڈھانچہ (Structure) تشکیل دیا گیا ہے، یہ فریم ورک بنیادی طور پر روایتی جنگ کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق بعض عناصر آئین کے آرٹیکل 243 اور 27 ویں ترمیم کے حوالے سے گمراہ کن پروپگنڈا کرنے میں مصروف عمل ہیں جبکہ اس حوالے سے حقائق سے آگاہی بےحد ضروری ہے۔

پہلا اہم نکتہ ہے کہ جنگ کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں آئین اور قانون میں کسی بھی قسم کی طرح کی تبدیلی پارلیمنٹ اور حکومت وقت کا استحقاق ہے، منتخب حکومت ،ملکی سلامتی اور خود مختاری کے لیے قومی مفاد میں قانون سازی کر سکتی ہے۔

دوسرااہم نکتہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں جنگ کی ساخت اور نوعیت مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ اب جنگ صرف روایتی میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی۔ گوریلا جنگ، غیر روایتی جنگ، اطلاعاتی محاذ (Information Warfare) اور سائبر اسپیس کی لڑائی نے جنگ کو ایک نئی جہت عطا کر دی ہے۔

مزید پڑھیں: مسلم لیگ ن پی پی پی سے 27ویں آئینی ترمیم پر حمایت چاہتی ہے، بلاول بھٹو زرداری کی تصدیق

تیسرااہم نکتہ یہ ہےکہ اب دنیا میں طاقت کاتوازن صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ معلومات، اکانومی ،ٹیکنالوجی اور ذہانت کے صحیح استعمال سےطے ہوتا ہے۔

چوتھااہم نکتہ یہ ہےکہ اب جنگیں صرف زمینی سطح پرنہیں بلکہ فضائی، سمندری، سائبر، انفارمیشن اور مختلف ڈومینز میں بیک وقت لڑی جاتی ہیں جس کے لیے تمام سروسز( آرمی، نیوی ،ایئر فورس) کے درمیان ہم آہنگی(Synergy ) ناگزیر ہے۔

پانچواں اہم نکتہ یہ ہے کہ جنگ کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں ایک مربوط کمانڈ سٹرکچر،بروقت فیصلہ سازی، منظم حکمت عملی اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی ناگزیر ہو چکی ہے۔

معرکہ حق میں بروقت فیصلہ سازی اور ٹرائی سروس ہم آہنگی کی اشد ضروت پیش آئی، اس صورتحال کے پیش نظرآرٹیکل میں تبدیلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: ستائیسویں آئینی ترمیم کے مجوزہ ڈرافٹ کے اہم نکات سامنے آ گئے

پاکستان جس طرح مشرقی اور مغربی سطح پر بیک وقت برسر پیکار ہے اور پاکستان کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، تو ایک منظم اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔

ان تمام حقائق اور بدلتی جنگی صورتحال کے پیش نظر آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ مسلح افواج نئےدور کے کثیرالجہتی خطرات اور چیلنجز کے مطابق ہم آہنگ ہوں۔

editor

Related Articles