ملک میں حالیہ دنوں گردش کرنے والی ان خبروں کی حقیقت سامنے آگئی ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ سب سے زیادہ ٹیکس تنخواہ دار طبقے سے وصول کیا جاتا ہے۔
وزارتِ خزانہ نے اس تاثر کو غلط قرار دیتے ہوئے وضاحت جاری کر دی ہے۔ یہ وضاحت سینیٹ کے اجلاس میں تحریری جواب کی صورت میں پیش کی گئی ہے۔
تحریری جواب میں وزارتِ خزانہ نے واضح کیا کہ ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس تنخواہ دار افراد سے وصول نہیں کیا گیا، بلکہ مختلف معاشی شعبوں نے اس میں کہیں زیادہ حصہ ڈالا ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ ٹیکس بینکنگ سیکٹر سے لیا گیا، جس کی رقم 1127 ارب روپے بنتی ہے۔ اسی طرح پیٹرولیم سیکٹر دوسرے نمبر پر رہا، جہاں سے 1121 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا گیا۔
مزید تفصیلات کے مطابق پاور سیکٹر نے 858 ارب روپے کا ٹیکس جمع کرایا، جبکہ ریٹیلرز اور ہول سیلرز سے 693 ارب روپے ٹیکس حاصل ہوا۔ ان تمام شعبوں کے مقابلے میں تنخواہ دار طبقے سے وصول کیا گیا ٹیکس 498 ارب روپے رہا، جو دیگر بڑے شعبوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ اگرچہ تنخواہ دار طبقہ مجموعی ٹیکس آمدنی میں ایک اہم حصہ ڈالتا ہے، تاہم ملک کے چند مخصوص شعبے ہی ٹیکس کا بڑا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ معیشت کے مختلف حصوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ضروری ہے تاکہ بوجھ منصفانہ طریقے سے تقسیم ہو سکے اور محصولات کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
وزارتِ خزانہ کی اس وضاحت کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ تنخواہ دار طبقے پر سب سے زیادہ ٹیکس ڈالنے کا تاثر درست نہیں، جبکہ بڑے معاشی شعبے مجموعی محصولات میں زیادہ حصہ فراہم کر رہے ہیں۔