تیل اور گھی کی قیمتوں سے متعلق اہم خبر

تیل اور گھی کی قیمتوں  سے متعلق اہم خبر

تیل، گھی اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء کی قیمتوں سے متعلق اہم رپورٹ منظرِ عام پر آگئی ہے۔ ادارۂ شماریات نے حالیہ ہفتہ وار معاشی جائزہ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملک میں ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 15 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 12 اشیا سستی ہوئیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، مرغی کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

صرف ایک ہفتے کے اندر مرغی کی فی کلو قیمت میں 66 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد اس کی قیمت 391 روپے فی کلو سے بھی تجاوز کر گئی، جس نے عام صارفین کے بجٹ پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔ اسی طرح ٹماٹر کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا گیا اور وہ 13 روپے اضافے کے بعد 121 روپے فی کلو تک پہنچ گئے۔ گھریلو سلنڈر بھی مہنگا ہو گیا اور 63 روپے اضافے کے ساتھ اس کی نئی قیمت 3083 روپے ہو گئی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ کیلے، آلو، گھی، خوردنی تیل، انڈے، گوشت اور دال مسور کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا، جس کے باعث گھریلو اخراجات میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تیل اور گھی کی قیمتوں میں اضافے نے خاص طور پر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں، کیونکہ یہ اشیا روزمرہ کھانوں کی بنیادی ضرورت سمجھی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرول کی قیمت میں معمولی کمی، ڈیزل مہنگا ہونے کا امکان

دوسری جانب گزشتہ ہفتے 12 اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔ پیاز کی قیمت میں 11 روپے کی کمی ہوئی اور وہ کم ہو کر 154 روپے فی کلو پر آگئی۔ رپورٹ کے مطابق دال چنا کی قیمت میں بھی 7 روپے کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد اس کی نئی قیمت 282 روپے فی کلو ہو گئی۔ اس کے علاوہ دال مونگ، دال مسور، نمک، چینی، آٹا اور گڑ بھی سستی ہونے والی اشیا میں شامل رہے۔

ادارۂ شماریات کی تازہ رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ ملک میں مہنگائی کا رجحان اب بھی جاری ہے، جہاں بعض اشیا کی قیمتوں میں نرمی ضرور آئی ہے مگر مجموعی طور پر ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کا دباؤ برقرار ہے۔ اس صورتحال نے عوام کو گھریلو بجٹ ترتیب دینے میں مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

Related Articles