لاہور کی سیشن کورٹ میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی جانب سے بانی پاکستان تحریک انصاف کے خلاف دائر ہتکِ عزت کے دعوے کی سماعت ہوئی، جس میں وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ بطور گواہ پیش ہوئے اور انہوں نے اپنا بیان قلمبند کروایا۔ سماعت ایڈیشنل سیشن جج یلمازغنی کی عدالت میں ہوئی۔
ایڈیشنل سیشن جج یلمازغنی کی عدالت میں ہونے والی عدالتی کارروائی کے دوران عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وہ یہ گواہی کسی سیاسی وابستگی کے تحت نہیں دے رہے بلکہ یہ حقائق پر مبنی گواہی ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی نے ایک متنازع بیان دے کر شہباز شریف کی ساکھ کو نقصان پہنچایا، جس کے بعد ہتکِ عزت کا یہ مقدمہ دائر کیا گیا۔
سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکلا نے عطا اللہ تارڑ سے تفصیلی جرح کی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تاڑر سے سوال کیا کہ ان کا مسلم لیگ ن سے تعلق کب سے ہے؟۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ سوال مناسب نہیں بنتا اور مقدمے سے براہ راست تعلق نہیں رکھتا۔ وکیل نے مزید کہا کہ پیش کردہ اخباری تراشے نہ ان کے حق میں ہیں نہ خلاف اور نہ ہی یہ عطا اللہ تارڑ کے تحریر کردہ ہیں۔
جرح کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل نے پوچھا کہ عدالت میں پیش کی گئی ’یو ایس بی‘ کہاں سے حاصل کی گئی، کیا یہ انہوں نے خود خریدی ہے؟ عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ انہوں نے یہ ’یو ایس بی‘ خود لاہور کے حفیظ سینٹر سے خریدی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یو ایس بی میں موجود ڈیٹا ذرائع ابلاغ سے حاصل کردہ مواد پر مشتمل ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے مزید وضاحت کی کہ انہوں نے جو اخباری تراشے پیش کیے ہیں وہ پبلک ڈاکومنٹس ہیں اور تصدیق شدہ ہیں، اس لیے انہیں بطور ثبوت عدالت میں پیش کرنا بالکل قانونی اور قابلِ قبول ہے۔ پی ٹی آئی کے وکلاء کی جرح مکمل ہونے کے بعد عدالت نے کارروائی آگے بڑھائی۔
ایڈیشنل سیشن جج یلماز غنی نے شہباز شریف کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر دوسرے گواہ، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد کو بھی طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 29 نومبر تک ملتوی کر دی۔
ہتکِ عزت کا یہ مقدمہ سیاسی اور قانونی حلقوں میں خاصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، کیونکہ یہ براہِ راست ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے بیانات سے متعلق ہے اور اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔