حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد نمبر 10 میں واقع غیر قانونی آتش بازی کا سامان تیار کرنے والے کارخانے میں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں 5 مزدور جاں بحق جبکہ 8 زخمی ہوگئے۔ دھماکہ لطیف آباد یونٹ نمبر 10 کے لغاری گوٹھ کے رہائشی علاقے میں قائم اس غیر قانونی کارخانے میں ہوا، جس کے بعد پورا علاقہ لرزا اٹھا۔
دھماکے کے فوراً بعد کارخانے میں شدید آگ لگ گئی، جس نے آس پاس کے ماحول کو بھی متاثر کیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہو گئیں۔ ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے جاں بحق افراد کی لاشیں اور زخمی مزدوروں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
دریں اثنا، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے حیدرآباد میں فیکٹری دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کی جائے۔ وزیراعلیٰ نے واقعے کی ابتدائی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔ انہوں نے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر حیدرآباد سے فوری حقائق نامہ طلب کرتے ہوئے کارخانے میں حفاظتی انتظامات کا مکمل آڈٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔
مراد علی شاہ نے واضح کیا ہے کہ دھماکے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور مزدوروں کے تحفظ میں کسی قسم کی کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کو مؤثر بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
مزید تفصیلات شامل کی جارہی ہیں۔