آزادکشمیر کے نو منتخب وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور آج ایوانِ صدر مظفر آباد میں حلف اٹھائیں گےتقریب میں پیپلز پارٹی کی رہنما فریال تالپور بھی شرکت کے لیے مظفرآباد پہنچ چکی ہیں جبکہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی شرکت کا امکان بھی ہے جس سے تقریب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
گزشتہ روز ایوان میں چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی فیصل ممتاز راٹھور کو وزارت عظمی کے لیے 36 ووٹ ملے جبکہ مخالفت میں صرف 2 ووٹ پڑے۔
پیپلز پارٹی نے اس سے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کے لیے 38 ارکان کی حمایت حاصل ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سیاسی صف بندی میں واضح اکثریت ان کے حق میں رہی۔
سابق وزیراعظم انوارالحق نے اپنے آخری خطاب میں کہا کہ ایک شخص کو آئین اور انتظامی ڈھانچے کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کابینہ کے دیگر اراکین بھی اس میں حصہ دار ہیں انہوں نے مزید کہا کہ آزادکشمیر کا سیاسی نظام تب ہی مضبوط رہے گا جب سرحدیں محفوظ ہوں اور پاکستان کی مسلح افواج موجود رہیں۔
ان کے مطابق بصورت دیگر خطے میں کوئی بھی مستحکم نظام قائم نہیں رہ سکتا نو منتخب وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے ایوان سے خطاب میں کہا کہ ایکشن کمیٹی کے مسائل حقیقت پر مبنی ہیں اور کچھ خواہشات کی بنیاد پر ہیں۔
انہوں نے یقین دلایا کہ ان کی قیادت میں آزادکشمیر میں شفاف اور ذمہ دارانہ حکومت قائم کی جائے گی، اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
تقریب حلف برداری کے بعد نئے وزیراعظم کی قیادت میں آزادکشمیر کی سیاسی اور انتظامی سرگرمیاں نئی سمت اختیار کریں گی اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات تیز ہوں گے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ فیصل ممتاز راٹھور کی حکومت میں نئے منصوبے اور اصلاحات متوقع ہیں جو
خطے کے استحکام اور ترقی میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔