برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اسلاموفوبیا اور برطانیہ میں مسلم کمیونٹی کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سیکیورٹی اقدامات کوبڑھانے کا اعلان کیا ہے۔
برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے ملک میں مسلم مخالف نفرت میں اضافے کی شدید مذمت کی اور اسے ‘مکروہ عمل’ قرار دیا اور کہا کہ ایسے نفرت آمیز رویے کی’ہمارے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں‘۔
یہ بھی پڑھیں:اسلاموفوبیا سے نمٹنے کیلئے عالمی سطح پر بروقت اقدامات وقت کی اہم ضروت
ہاؤس آف کامنز سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت ملک میں بڑھتی ہوئی نسل پرستی اور اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مسلمانوں کے خلاف دشمنی ناقابل قبول ہے اور اس کا سختی سے سدباب کیا جانا ضروری ہے۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا کہ حکومت مساجد اور مسلم اسکولوں کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی فنڈنگ میں اضافہ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اضافی معاونت سے نفرت پر مبنی واقعات کی مانیٹرنگ بہتر ہوگی اور متاثرین کی مدد ممکن ہوسکے گی۔
انہوں نے کہا کہ’ہم اس کے پابند ہیں کہ ہمارے ملک کی ہر برادری خود کو محفوظ اور محفوظ تصور کرے‘، وزیراعظم نے کہا اور اسلاموفوبیا کے ہر پہلو کے خلاف حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔
واضح رہے کہ برطانیہ، امریکا اور دیگر مغربی ممالک میں غزہ میں جاری جنگ کے دوران مسلمانوں سے نفرت (اسلاموفوبیا) اور یہود مخالف واقعات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
مزید پڑھیں:کتاب کی رونمائی کی تقریب: کیا مسلمان آپ کو خوفزدہ کرتے ہیں؟ اسلاموفوبیا پر صحافیوں کے لئے ایک جامع گائیڈ
نائن الیون کے حملوں کے بعد سے مغربی ممالک میں مسلمانوں کو تعصب اور نفرت کا سامنا کرنا پڑا، اب مشرق وسطیٰ میں جو صورتحال پیدا ہوئی ہے، اُس نے حالات کو اور بھی خراب کر دیا ہے۔
برطانوی معاشرے میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کے واقعات پر نظر رکھنے والی تنظیم ٹیل ماما نے عام شہریوں کی ہراسانی اور تعصب کا نشانہ بننے کے بہت سے واقعات ریکارڈ کیے ہیں۔

