روس یوکرین تنازع پر امریکی صدر اور برطانوی وزیر اعظم کا اہم رابطہ

روس یوکرین تنازع پر امریکی صدر اور برطانوی وزیر اعظم کا اہم رابطہ

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اہم ٹیلیفونک گفتگو میں روس یوکرین تنازعے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

ترجمانِ برطانوی حکومت کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن کے لیے خطرہ بنتی جارہی ہے اور اس صورتحال کا سیاسی اور سفارتی حل ناگزیر ہے۔

گفتگو کے دوران فیصلہ ہوا کہ برطانیہ اور امریکا آئندہ دنوں میں یوکرین کے لیے مشترکہ امن منصوبے پر مشاورت تیز کریں گے تاکہ جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے عملی پیش رفت ممکن ہو سکے۔

یہ خبربھی پڑھیں :روس نے ٹرمپ امن منصوبے کی حمایت کردی، یوکرین کو معاہدہ قبول کرنے کے لیے ڈیڈ لائن

وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اس سے قبل یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بھی رابطہ کیا اور برطانیہ کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ لندن یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے مسلسل اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ برطانیہ کی جانب سے یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین کو میدانِ جنگ اور معاشی محاذ دونوں پر شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

ادھر جنیوا میں آج یوکرین اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے مجوزہ منصوبے پر مذاکرات بھی طے ہیں۔ یہ مذاکرات مستقبل کے امن روڈ میپ میں اہم پیش رفت سمجھے جا رہے ہیں۔

یہ خبربھی پڑھیں :روس سے کاروبار کرنیوالا ملک سخت پابندیوں کا سامنا کرے گا، ٹرمپ کا انتباہ

کیونکہ واشنگٹن اور کییف اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بھی حل میں یوکرین کی سلامتی اور اس کے عوام کی خواہشات کو اولین حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے بھی گفتگو میں واضح کیا کہ اگر وہ پہلے سے صدر ہوتے تو روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کبھی شروع ہی نہ ہوتی۔

انہوں نے زور دیا کہ امریکا امن کے لیے سنجیدہ ہے اور وہ ایسے نتیجے تک پہنچنا چاہتا ہے جو دونوں ممالک کے لیے قابل قبول ہو اور خطے کو مزید تباہی سے بچا سکے۔

editor

Related Articles