روس نے ٹرمپ امن منصوبے کی حمایت کردی، یوکرین کو معاہدہ قبول کرنے کے لیے ڈیڈ لائن

روس نے ٹرمپ امن منصوبے کی حمایت کردی، یوکرین کو معاہدہ قبول کرنے کے لیے ڈیڈ لائن

روس نے یوکرین سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ امن منصوبے کی باضابطہ حمایت کردی ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے تصدیق کی ہے کہ اس مجوزہ منصوبے میں ماسکو کے کئی اہم مطالبات شامل کیے گئے ہیں، جنہیں وہ امن مذاکرات کے لیے ایک مثبت بنیاد سمجھتے ہیں۔

پیوٹن نے اپنے بیان میں خبردار کیا کہ اگر یوکرین اس منصوبے کو مسترد کرتا ہے تو روس مزید پیش قدمی کرسکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’جیسے حال ہی میں یوکرین کے علاقے کیپیانسک پر روسی کنٹرول قائم ہوا، ایسے ہی دیگر اہم علاقوں میں بھی کارروائی کی جاسکتی ہے‘۔ ان کے مطابق امریکی دستاویز میں بعض ایسی شقیں شامل ہیں جن پر مزید گفت و شنید ممکن ہے، تاہم مجموعی طور پر یہ 28 نکاتی منصوبہ امن معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:روس امریکا تعلقات میں بہتری، پیوٹن نے کریڈٹ ٹرمپ کو دیدیا

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو جمعرات تک امن معاہدہ قبول کرنے کی ڈیڈلائن دے دی ہے۔ امریکی ریڈیو کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ متعدد ڈیڈ لائنز پر کام کرچکے ہیں اور اگر حالات مثبت ہوں تو ان میں توسیع بھی کی جاسکتی ہے، تاہم ان کے خیال میں یوکرین کے پاس جمعرات تک فیصلہ کرنے کا ’مناسب وقت‘ موجود ہے۔

یوکرین کی جانب سے ردعمل میں صدر ولادیمیر زیلنسکی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کی حکومت نے امریکی منصوبے کو مسترد کیا تو ملک اپنی آزادی، وقار یا واشنگٹن کی حمایت کھو سکتا ہے۔ زیلنسکی کے مطابق یہ منصوبہ روس کے کئی اہم مطالبات کو تقویت دیتا ہے، جس پر سنجیدہ غور کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’یہ ہفتہ یوکرین کے لیے سب سے مشکل ہے، کیونکہ ہمیں ایک ایسا فیصلہ کرنا ہے جو ہمارے مستقبل کا تعین کرے گا۔ اس موقع پر پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا‘۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے میں یوکرین کو نیٹو کے آرٹیکل 5 کے طرز پر حفاظتی ضمانتیں دینے کی تجویز شامل ہے، یعنی کسی بھی بیرونی حملے کو یوکرین پر نہیں بلکہ اس اتحاد پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ جنگ بندی مسودے کے تحت امن معاہدہ دستخط ہوتے ہی دس سال کے لیے نافذالعمل رہے گا۔

مزید پڑھیں:ہم روس یوکرین کے درمیان امن معاہدے کے قریب ہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے،امریکا

روس کی حمایت، امریکہ کا دباؤ، اور یوکرین کی داخلی تشویش کے تناظر میں یہ ہفتہ خطے کے سیاسی مستقبل کے لیے فیصلہ کن سمجھا جا رہا ہے، جبکہ دنیا بھر کی نظریں جمعرات کی ڈیڈلائن پر مرکوز ہیں۔

Related Articles