ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی اور مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ سپلائی چین میں ممکنہ تعطل کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
تہران کی جانب سے واشنگٹن کی حالیہ تجویز پر موصول ہونے والے ردعمل نے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کو مزید واضح کردیا ہے جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کی کامیابی کے امکانات کمزور پڑتے نظر آ رہے ہیں۔
اسی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں جس کے نتیجے میں منگل کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً 1 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کے سودے 86 سینٹ (0.8 فیصد) اضافے کے ساتھ 105.07 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 99 سینٹ (1 فیصد) اضافے کے بعد 99.06 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
اس سے قبل پیر کے روز بھی دونوں بڑے بینچ مارکس کی قیمتوں میں تقریباً 2.8 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں مسلسل اتار چڑھاؤ کا رجحان ظاہر ہو رہا ہے۔
موجودہ صورتحال میں اگر ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی ڈیڈلاک برقرار رہتا ہے تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے جبکہ سپلائی چین پر دباؤ بڑھنے سے ترقی پذیر ممالک خصوصاً توانائی درآمد کرنے والے ممالک کیلئے مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
مشرق وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی یا آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کی صورت میں عالمی معیشت کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں کیونکہ دنیا کی بڑی توانائی سپلائی اسی خطے سے منسلک ہے۔