حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ تعطل کا شکار مذاکراتی عمل کی بحالی کے لیے اہم پیش رفت کرتے ہوئے صدر مملکت کو بھی آن بورڈ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان متوقع ملاقات کے لیے رابطہ کاری کی ذمہ داری رانا ثناء اللہ کو سونپ دی گئی ہے۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اپوزیشن سے باضابطہ مذاکرات شروع کرنے سے قبل صدر مملکت آصف علی زرداری کو اعتماد میں لینا چاہتے ہیں، تاہم صدر مملکت کی کراچی میں مصروفیات کے باعث دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران قازقستان کے صدر کے دورے اور وزیراعظم کی مصروفیات بھی ملاقات میں رکاوٹ بنیں۔ اب طے پایا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن قیادت کے اہم رہنما محمود خان اچکزئی کے درمیان ملاقات پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن قیادت سے ملاقات کریں گے، جس میں سیاسی صورتحال، پارلیمانی امور اور ممکنہ مذاکراتی فریم ورک پر تبادلہ خیال کیے جانے کا امکان ہے۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے صدر مملکت کو مذاکراتی عمل میں شامل کرنے کا فیصلہ اپوزیشن کے ساتھ اعتماد سازی کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جس سے سیاسی درجہ حرارت میں کمی اور پارلیمانی نظام کے استحکام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔