اسلام آباد میں دہائیوں پر محیط غیر قانونی قبضے کا خاتمہ، 3500 تعمیرات گرا دی گئیں، حکومتی رٹ بحال

اسلام آباد میں دہائیوں پر محیط غیر قانونی قبضے کا خاتمہ، 3500  تعمیرات گرا دی گئیں، حکومتی رٹ بحال

اسلام آباد کے نواحی علاقے نورپور شاہان میں اربوں روپے مالیت کی سرکاری زمین ایک شفاف اور قانونی آپریشن کے ذریعے واگزار کرا لی گئی، جس سے دہائیوں پر محیط غیر قانونی قبضہ اور ناجائز منافع خوری کا خاتمہ ہو گیا۔

ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر 600 ایکڑ پر پھیلے قبضہ شدہ علاقے میں سے 300 ایکڑ زمین بازیاب کرا لی گئی ہے اس کارروائی میں 3,500 سے زائد غیر قانونی تعمیرات کو ختم کیا گیا

حکام کا کہنا ہے کہ یہ زمین 1961 سے 1964 کے دوران مکمل معاوضے ، نقد ادائیگی اور متبادل اراضی کے ساتھ قانونی طور پر حاصل کی گئی تھی جس کے بعد تمام دعوے نمٹا دیے گئے تھے۔ سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس نمبر 1 برائے 2011 میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ حاصل شدہ زمین مکمل طور پر ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور قابضین کے لیے کسی رعایت کی گنجائش نہیں ہے

انتظامیہ کے مطابق کارروائی سے قبل مکمل قانونی تقاضے پورے کیے گئے، دعوے طلب کیے گئے، سماعتیں ہوئیں اور 19 جنوری 2026 کو تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا، جس کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی جیل سے ہسپتال منتقل ،بیرسٹر گوہر نے تصدیق کر دی

یہ آپریشن نومبر 2025 سے اپریل 2026 تک مرحلہ وار جاری رہا جس میں متاثرہ افراد کو پیشگی اطلاع دی گئی اور انہیں موقع دیا گیا کہ وہ اپنے سامان، چھتیں اور لوہے کے ڈھانچے خود ہٹا لیں۔ زمینی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعدد قابضین نے از خود اپنا سامان ہٹا لیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کارروائی انسانی ہمدردی کے تحت اور پیشگی اطلاع کے ساتھ کی گئی۔

حکام کے مطابق قبضہ مافیا غیر قانونی فروخت، کرایہ داری اور کمرشل سرگرمیوں میں ملوث تھا جس پر ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمات بھی درج کر لیے گئے ہیں۔

مزید بتایا گیا کہ 1985 میں قائم کردہ ماڈل ولیج کو اس آپریشن میں شامل نہیں کیا گیا اور کارروائی صرف اس کی حدود سے باہر موجود غیر قانونی تعمیرات تک محدود رہی۔

سی ڈی اے، ضلعی انتظامیہ اور اسلام آباد پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ریاستی رٹ بحال کی اور عوامی اثاثوں کا تحفظ یقینی بنایا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *