ہیروئن کی برآمدگی پر لندن میں عدالت کی جانب سے 21 سال سزا پانے والی سدرہ نوشین سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، اس بات کا انکشاف سامنے آیا ہے کہ سدرہ نوشین سے برطانیہ میں 85 کلو ہیروئن برآمد ہوئی ہے جس پر عدالت نے انہیں 21 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور تصاویر سے اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ سدرہ نوشین کا تعلق پاکستان کی جماعت تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) سے ہے اور وہ پی ٹی آئی کی سرگرم رکن ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور تصاویر کے ساتھ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سدرہ نوشین کو برطانیہ میں عمران خان کی حمایت میں پی ٹی آئی کی جانب سے نکالے جانے والے جلسے، جلوسوں اور مظاہروں میں ہمیشہ دیکھا گیا ہے اور یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ سدرہ نوشین پی ٹی آئی کے مظاہروں کا باقاعدہ سے اہتمام بھی کیا کرتی تھیں اور ان کے لیے فنڈز بھی فراہم کیا کرتی تھیں۔
سدرہ نوشین کی ہیروئن کی اسمگلنگ کے باعث گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر ایک کہرام مچ گیا ہے، صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا پاسپورٹ عالمی سطح پر ڈی ویلیو کیوں ہو رہا ہے اس کی وجہ کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ پاکستانیوں کو بیرون ملک ویزے کیوں نہیں ملتے جس کا سیدھا اور سادہ جواب حاضر ہے کہ پی ٹی آئی والوں کے بیرون ملک ایسی سرگرمیاں اور منفی کارناموں کی وجہ سے پاکستان عالمی سطح پر بدنام ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ سدرہ نوشین کو 23 دسمبر کو برطانوی عدالت کی جانب سے سزا سنائی گئی تھی۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ہیروئن کپڑوں میں چھپا کر بریڈفورڈ میں سدرہ نوشین کے گھر پہنچائی جاتی تھی، جہاں سے وہ ہیروئن کے 1،1 کلو کے پیکٹ تیار کر کے مارکیٹ میں خفیہ طریقوں سے فروخت کرتی تھی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ملزمہ ایک منظم جرائم پیشہ گروپ کا حصہ تھی اور برطانیہ بھر میں ہیروئن فروخت کرتی تھی، اس کے بیرونِ ملک روابط کے ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
واضح رہے کہ دوسری جانب پاکستان کے اندر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر بھی ہیروئن اور منشیات اسمگلنگ کے الزامات لگ رہے ہیں۔