وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین نے صوبائی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ چار ارب روپے کے امدادی پیکج پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاحال انہیں کسی قسم کی مالی امداد موصول نہیں ہوئی۔ متاثرین کے مطابق شدید سردی، بیماری اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، جبکہ سرکاری دعوے زمینی حقائق کے برعکس دکھائی دے رہے ہیں۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے چار ارب روپے کے پیکج کا اعلان تو کیا، مگر اس پر شفاف عملدرآمد نظر نہیں آ رہا۔ ان کا الزام ہے کہ سرکاری سطح پر اس رقم میں غبن کیا گیا ہے اور اصل متاثرین کو نظرانداز کر کے غیر متعلقہ افراد کو ٹوکن جاری کیے جا رہے ہیں۔ متاثرین کے مطابق سیاسی بنیادوں پر وزیراعلیٰ اور صوبائی حکومت کی جانب سے صرف پی ٹی آئی سے وابستہ افراد کو رقوم دی جا رہی ہیں، جبکہ حقیقی متاثرین خالی ہاتھ ہیں۔
متاثرین نے بتایا کہ شدید سردی کے موسم میں بیمار اور کمزور افراد رجسٹریشن مراکز کے چکر لگانے پر مجبور ہیں، مگر اس کے باوجود انہیں امداد نہیں مل رہی۔ ایک متاثرہ خاندان نے بتایا کہ نقل مکانی کے دوران چار گاڑیوں پر ایک لاکھ چالیس ہزار روپے خرچ ہوئے، لیکن حکومت کی طرف سے اب تک امدادی رقم صفر ہے۔
متاثرین کا مزید کہنا ہے کہ نادرا کلیئرنس کے باوجود انہیں ایک پیسہ بھی نہیں دیا گیا، جبکہ سرکاری اہلکار مختلف بہانے بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض اہلکار کھلے عام یہ کہتے ہیں کہ “سفارش ڈھونڈ لو، پھر کام ہو جائے گا”، جو سراسر ناانصافی ہے۔
متاثرین نے الزام لگایا کہ اصل متاثرین کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے اور غیر متعلقہ افراد کو امدادی نظام میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے پاس اپنے مؤقف کے ثبوت موجود ہیں اور وہ کسی بھی فورم پر یہ شواہد پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔
وادی تیراہ کے متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ چار ارب روپے کے پیکج کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اصل متاثرین کو فوری اور بلاامتیاز مالی امداد فراہم کی جائے تاکہ وہ اس کٹھن وقت میں بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔