ملک بھر کے بجلی صارفین ایک بار پھر بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے لیے تیار ہو جائیں، کیونکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی مہنگی کرنے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں جمع کرا دی ہے۔ درخواست کے مطابق صارفین سے مجموعی طور پر 10 ارب 83 کروڑ روپے اضافی وصول کرنے کی اجازت طلب کی گئی ہے، جو رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت مانگی گئی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی بنیاد پر بجلی کی قیمت میں فی یونٹ کتنا اضافہ ہوگا، اس کا حتمی فیصلہ نیپرا کرے گا۔ تاہم اگر نیپرا درخواست منظور کر لیتا ہے تو اس کا براہِ راست بوجھ بجلی صارفین پر پڑنے کا امکان ہے۔ تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں مختلف مالیاتی مدات کا حوالہ دیتے ہوئے اضافی وصولیوں کی اجازت مانگی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نیپرا کو کیپیسٹی چارجز کی مد میں بھی ایک علیحدہ درخواست موصول ہوئی ہے، جس کے تحت 24 ارب 25 کروڑ روپے وصول کرنے کی اجازت طلب کی گئی ہے۔ کیپیسٹی چارجز وہ ادائیگیاں ہوتی ہیں جو بجلی پیدا کرنے والے پاور پلانٹس کو بجلی استعمال ہو یا نہ ہو، معاہدوں کے تحت کی جاتی ہیں اور ان کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہوتا ہے۔
دوسری جانب تقسیم کار کمپنیوں نے اپنی درخواست میں آپریشنز اینڈ مینٹیننس کی مد میں ایک ارب 65 کروڑ 50 لاکھ روپے کی کمی کی بھی اطلاع دی ہے، جسے ایڈجسٹمنٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ تاہم مجموعی طور پر اضافی وصولیوں کی درخواست کے باعث بجلی کی قیمت میں اضافے کا امکان برقرار ہے۔
ذرائع کے مطابق اکتوبر تا دسمبر 2025 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی ہوگا، جس کے نتیجے میں کراچی سمیت کے الیکٹرک کے زیرِ انتظام علاقوں میں بجلی استعمال کرنے والے صارفین بھی اس ممکنہ اضافے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
نیپرا حکام کے مطابق تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے جمع کرائی گئی اس درخواست پر 17 فروری کو سماعت کی جائے گی، جس میں تمام فریقین کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ سماعت کے بعد نیپرا یہ فیصلہ کرے گا کہ بجلی کی قیمت میں اضافہ کیا جائے یا نہیں اور اگر اضافہ کیا جاتا ہے تو فی یونٹ ایڈجسٹمنٹ کتنی ہوگی۔