امریکہ ایران ممکنہ جنگ، ٹرمپ نے 24 گھنٹے اہم قرار دیدیئے

امریکہ ایران ممکنہ جنگ، ٹرمپ نے 24 گھنٹے اہم قرار دیدیئے

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت وائٹ ہاؤس میں نیشنل سیکیورٹی کونسل کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایران سے متعلق تیزی سے بدلتی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی، سفارتی حکمت عملی اور ممکنہ آئندہ اقدامات زیر بحث آئے۔

ایک صحافی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا کہ “ایرانی مظاہرین کے لیے مدد آ رہی ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟”۔صدر ٹرمپ نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا، “آپ کو خود ہی بات سمجھنا ہوگی۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ایران سے متعلق صورتحال کے حوالے سے تمام معلومات آئندہ 24 گھنٹوں میں سامنے آئیں گی، جس سے واضح ہو جائے گا کہ امریکا کس نوعیت کی مدد فراہم کر رہا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ جواب اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ امریکا ایران میں جاری مظاہروں اور عوامی احتجاج کے تناظر میں کوئی اہم اقدامات کرنے والا ہے، اور تفصیلات قریبی مستقبل میں واضح ہوں گی۔

مزید پڑھیں: ایران کے محب وطن لوگ احتجاج جاری رکھیں، اداروں پر قبضہ کرلیں،مدد پہنچ رہی ہے، ٹرمپ

امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تمام سفارتی روابط منقطع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے امکانات پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق کسی ممکنہ کارروائی کی صورت میں ایران کی اعلیٰ سول اور ملٹری قیادت کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اجلاس کے بعد صدر ٹرمپ مشی گن کے لیے روانہ ہو گئے، تاہم امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ وہ ایران سے متعلق آج شام کوئی بڑا اور فیصلہ کن اعلان کر سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ ایرانی قیادت کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی سے قبل امریکی عوام سے خطاب کریں گے۔

امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا قوم سے خطاب آج رات متوقع ہے، جس میں ایران سے متعلق امریکی پالیسی، آئندہ لائحہ عمل اور قومی سلامتی کے امور پر اہم نکات سامنے آ سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر اس خطاب کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سمیت عالمی سیاست پر گہرے ہو سکتے ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *