موبائل سم صارفین کے لئے اہم خبر سامنے آگئی

موبائل سم صارفین کے لئے اہم خبر سامنے آگئی

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ملک میں جعلی اور غیر قانونی سم کارڈز کے اجرا کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر اپنے اقدامات مزید سخت کرتے ہوئے متعدد چھاپہ مار کارروائیاں کی ہیں۔

پی ٹی اے کے مطابق یہ کارروائیاں مختلف شہروں میں اس وقت کی گئیں جب اطلاعات سامنے آئیں کہ کچھ فرنچائزز غیر مجاز طریقے اور جعلی بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے سم کارڈز فعال کر رہی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پی ٹی اے لاہور دفتر نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے تعاون سے شاکوٹ، حویلی لاہہ اور یزمان میں چھاپے مارے۔ ان کارروائیوں کے دوران کئی فرنچائزز پکڑی گئیں جو بائیومیٹرک نظام کو دھوکہ دینے کے لیے غیر قانونی آلات استعمال کر رہی تھیں۔ تلاشی کے دوران بڑی تعداد میں مشکوک سم کارڈز، بائیومیٹرک سسٹم سے چھیڑ چھاڑ کے لیے استعمال ہونے والے اسکینرز، ڈیوائسز اور دیگر آلات قبضے میں لے لیے گئے، جنہیں قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ اداروں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

شاکوٹ اور حویلی لاہہ میں کارروائی کے دوران فرنچائزز کے کسٹمر سروس نمائندوں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ یزمان میں فرنچائز مالک، سپروائزر اور ایک دیگر شخص سمیت تین افراد کو حراست میں لیا گیا۔ پی ٹی اے کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر دیے گئے ہیں اور تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ ان سرگرمیوں میں ملوث دیگر عناصر تک بھی پہنچا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: غیر رجسٹرڈ ’’نان پی ٹی اے‘‘ موبائل استعمال کرنے والوں کے لئے اہم خبر

پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ جعلی سم کارڈز کے اجرا اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری رہے گا۔ اتھارٹی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سم کارڈ یا غیر مجاز طریقے سے فعال ہونے والی خدمات کی فوری اطلاع کریں، تاکہ ایسے جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔ پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ غیر قانونی سم کارڈز نہ صرف سیکیورٹی خطرات پیدا کرتے ہیں بلکہ ملک کے کمیونیکیشن نظام کو بھی متاثر کرتے ہیں، اس لیے ان کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی ۔

Related Articles