سینیٹرفیصل واوڈا نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ پارٹی نےخود ہی مائنس ون کردیا ان کی پارلیمانی پارٹی نے چار گھنٹے ملاقات کی اور مائنس ون کردیا۔
فیصل واوڈا کے مطابق پی ٹی آئی کی صفوں میں موجود ایک طاقتور گروہ منظم انداز میں ایسی حکمت عملی بنا رہا ہے جس سے پارٹی کے بانی کو سیاسی طور پر کمزور کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ تو آنا ہی آنا ہی کیونکہ یہ معاملہ سنگین نوعیت کا ہے اور اس کے علاوہ بھی پارٹی کے بانی مختلف قانونی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔
فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ یہ تمام محرکات مل کر پی ٹی آئی کے لیے آنے والے دنوں میں مزید مشکلات پیدا کریں گے واوڈا نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عارضی اور نالائق وزیراعلیٰ نے پارٹی میں مزید خلفشار پیدا کر دیا ہے۔
وزیراعلیٰ کی جانب سے بیرسٹر گوہر کی پریس کانفرنس کو مسترد کرنا پارٹی نظم و ضبط کے خلاف ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ عارضی وزیراعلیٰ نا تجربہ کار ہے اور مسلسل غلط بیانی کے ذریعے اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کر رہا ہے، جبکہ پارٹی کے منتخب نمائندے، ایم این ایز اور دیگر رہنما بھی منظر سے غائب ہیں۔
فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کا ایک دھڑا جیل توڑنے جیسے اقدامات کی باتیں کر رہا ہے، جو ملک کی سیاسی اور قانونی صورتِ حال کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔انہوں نے کہا کہ اس گروہ کا مقصد کسی بڑے سانحے کے بعد اگلے بیس سے پچیس سال تک اسی بیانیے پر سیاست کرنا ہے ۔
واوڈا نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس کھیل میں ایسے افراد شامل ہیں جن کا جھکاؤ بینشفری تعویزوں اور غیر سنجیدہ حکمت عملیوں کی طرف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حالات مزید خراب ہوئے تو انتظامیہ کو ایک سے ڈیڑھ ماہ میں جیل کی تبدیلی جیسے اقدامات کرنا پڑ سکتے ہیں۔