فیض حمید کو 14 سال قید کی سزا، وفاقی وزرا اور سیاسی رہنماؤں ردعمل

فیض حمید کو 14 سال قید کی سزا، وفاقی وزرا اور سیاسی رہنماؤں ردعمل

سابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی جانب سے 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائے جانے کے بعد ملکی سیاسی منظرنامے میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے فیصلے کو تاریخ کا سنگین موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’قوم برسوں قمر جاوید باجوہ اور فیض حمید کے بوئے ہوئے بیجوں کی فصل کاٹے گی‘۔

یہ بھی پڑھیں:سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے مزید لکھا کہ اللہ حکمرانوں کو طاقت اور اختیار کو صحیح معنوں میں عوام کی خدمت کے لیے استعمال کرنے کی توفیق دے۔ ان کے مطابق ریاستی معاملات میں مداخلت اور سیاسی کھیل کے اثرات برسوں تک سامنے آتے رہیں گے۔

لیفٹیننٹ جنزل فیض حمید کی سزا حق اور سچ کی فتح ہے، عطا اللہ تارڑ

دوسری جانب وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا کہ فیض حمید ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں براہ راست ملوث رہے اور 9 مئی کے واقعات کے دوران تحریک انصاف کے ایڈوائزر کے طور پر کردار ادا کیا۔ وزیر اطلاعات کے مطابق ٹاپ سٹی کیس میں اختیارات کا ناجائز استعمال بھی ثابت ہو چکا ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ فوج کا احتسابی نظام شفاف ہے اور یہ فیصلہ اسی کا واضح ثبوت ہے۔ ان کے بقول سیاسی معاملات پر مزید تحقیقات باقی ہیں اور ہر کردار جلد سامنے آجائے گا۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کی سزا ابتدا ہے، فیصل واوڈ

سینیٹر فیصل واوڈا نے بھی فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سزا اور جزا کے نظام سے کوئی بالاتر نہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک تاریخی کیس تھا جس کا نتیجہ درست انداز میں سامنے آیا۔ واوڈا نے کہا کہ ’جو پاکستان کو نقصان پہنچائے گا، اس کی کرسی کھینچ لی جائے گی‘۔

مزید پڑھیں:فیصل واوڈا کافیض حمید سے متعلق بڑا دعویٰ

سینیٹر واوڈا نے چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ قانون سب پر برابر لاگو ہوتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فیض حمید نے اپنی ڈومین سے باہر جا کر سیاست اور بغاوت دونوں کیں، جس کی سزا اب انہیں مل گئی ہے۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ فوج کے اندر احتساب کی اس مثال نے ملکی سیاست اور ادارہ جاتی کردار کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ مستقبل میں اداروں کے اختیارات اور حدود کے تعین پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *