پاکستان میں آج سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ ہوا ہے،فی تولہ کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی،جس کے بعد مقامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق یہ اضافہ نہ صرف عالمی مارکیٹ میں تیزی کا نتیجہ ہے بلکہ پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل عدم استحکام بھی اس صورتحال کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مقامی صرافہ مارکیٹ میں فی تولہ سونا 10 ہزار 700 روپے کے نمایاں اضافے کے بعد 4 لاکھ 54 ہزار 262 روپے کا ہوگیا اسی طرح 10 گرام سونا بھی 9 ہزار 174 روپے مہنگا ہوکر 3 لاکھ 89 ہزار 456 روپے تک جا پہنچا ہے۔
اس کے ساتھ ہی عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی، جہاں فی اونس سونا 174 ڈالر بڑھ کر 4,319 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جو گزشتہ چند ماہ کے دوران سب سے بڑا اضافہ ہے۔
کاروباری حلقوں کے مطابق پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ دو بنیادی عوامل کے باعث سامنے آیا ہے ایک جانب عالمی مارکیٹ میں سونے کی بڑھتی ہوئی طلب اور بڑھتی ہوئی قیمتیں اثرانداز ہو رہی ہیں جبکہ دوسری جانب ملکی کرنسی میں اتار چڑھاؤ سرمایہ کاروں کی توجہ کو دوبارہ سونے کی طرف موڑ رہا ہے۔
روپے کی قدر میں کمی کے باعث درآمدی اشیاء، خصوصاً قیمتی دھاتوں کی قیمت مزید بڑھ جاتی ہے، جس کا براہِ راست اثر مقامی مارکیٹ پر پڑتا ہے ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ سونا ہمیشہ سے محفوظ سرمایہ کاری کا ذریعہ سمجھا جاتا رہا ہے، خصوصاً ایسے حالات میں جب ملک سیاسی یا معاشی عدم استحکام کا شکار ہو۔
مہنگائی کی بلند شرح، عالمی تناؤ اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے دوران سرمایہ کار اپنے اثاثے محفوظ بنانے کے لیے سونے کا رخ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں اس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس پاکستان میں سونے کی قیمت کے تعین کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی تھی، جس کے تحت ملک میں سونے کی قیمت عالمی مارکیٹ کے ریٹ سے 20 ڈالر فی اونس زیادہ مقرر کی جاتی ہے۔
اس نئے فارمولے نے بھی مقامی نرخوں کو بلند رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے،ماہرین کا خیال ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں تیزی برقرار رہی اور مقامی کرنسی دباؤ میں رہی تو آئندہ دنوں میں سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی خارج از امکان نہیں۔