لاہور سمیت پنجاب بھر میں سرکاری آٹے کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے، جس کے باعث شہری شدید پریشانی میں مبتلا ہیں ، خصوصاً غریب طبقہ سستے آٹے کے حصول کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق فلور ملز مالکان کے مطابق حکومت کی جانب سے گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے گندم کی فراہمی معطل ہے، جس کے نتیجے میں آٹے کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے اور مارکیٹ میں سپلائی کا نظام بھی درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔
صورتحال یہ ہے کہ لاہور سمیت دیگر شہروں میں اوپن مارکیٹ میں 10 اور 20 کلوگرام آٹے کے تھیلے دستیاب نہیں رہے اور دستیاب گندم مہنگے داموں فروخت ہورہی ہے ۔
دوسری جانب کریانہ مرچنٹس کا کہنا ہے کہ شہر میں روزانہ تقریباً 2 لاکھ آٹے کے تھیلوں کی طلب موجود ہے، تاہم یہ طلب پوری نہیں ہو پا رہی، فلور ملز کے پاس محدود ذخائر ہونے کے باعث شہری مہنگے داموں 15 کلوگرام آٹے کے تھیلے خریدنے پر مجبور ہیں، جس سے گھریلو اخراجات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
کریانہ مرچنٹس اور فلور ملز ایسوسی ایشن نے اس تشویشناک صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر گندم کی سپلائی بحال کی جائے اور آٹے کے بحران پر قابو پایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔