وفاقی تحقیقاتی ادارے نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سابق وزیرِ اعظم عمران احمد خان نیازی اور ان کی اہلیہ بشریٰ عمران کے خلاف الزامات، تفتیشی عمل اور عدالتی کارروائی کی تفصیلات عدالت کے سامنے پیش کر دیں۔
کیس ریکارڈ کے مطابق 9 ستمبر 2024 کو ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد نے ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی، جس میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر شاہد پرویز ملک ایف آئی اے اے سی سی اسلام آباد اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر واجد حسین ایف آئی اے سی بی سی اسلام آباد شامل تھے، تاکہ اسپیشل جج سینٹرل ون اسلام آباد کی عدالت میں زیرِ سماعت مقدمے میں معاونت کی جا سکے۔ 10 ستمبر 2024 کو معزز ڈیوٹی جج نے ایف آئی اے ٹیم کو نیب سے متعلقہ ریکارڈ حاصل کرنے کا حکم دیا، جس کے بعد ایف آئی اے نے توشہ خانہ ٹو ریفرنس کا ریکارڈ باضابطہ طور پر طلب کیا۔
11 ستمبر 2024 کو تحقیقاتی ٹیم نے گواہ کی موجودگی میں ضبطی میمو کے ذریعے نیب سے ریکارڈ تحویل میں لیا۔ 16 ستمبر 2024 کو اسپیشل جج سینٹرل ون نے ایف آئی اے کو دونوں ملزمان کے خلاف الزامات پر مشتمل بیان جمع کرانے کا حکم دیا، جسے ضمنی رپورٹ تصور کیا گیا۔ 18 ستمبر 2024 کو یہ ریفرنس باضابطہ طور پر اسپیشل کورٹ کیس نمبر ایس جے سی ون ٹی زیرو ون 2024 کے طور پر الاٹ کیا گیا۔
عدالتی احکامات کی روشنی میں دفعہ 160 ضابطہ فوجداری کے تحت گواہوں کو نوٹس جاری کیے گئے، جنہوں نے ایف آئی اے کے سامنے پیش ہو کر نیب میں دیے گئے اپنے سابقہ بیانات کی توثیق کی۔ 21 ستمبر 2024 کو دفعہ 173 ضابطہ فوجداری کے تحت ضمنی رپورٹ ایف آئی اے اسلام آباد زونل بورڈ کی منظوری کے بعد عدالت میں جمع کرائی گئی۔ 23 ستمبر 2024 کو چالان اور دیگر دستاویزات کی نقول ملزمان کو فراہم کی گئیں۔
30 ستمبر 2024 کو گرفتاری کے بعد دونوں ملزمان کی ضمانتیں اسپیشل جج سینٹرل ون نے مسترد کر دیں۔ تاہم 23 اکتوبر 2024 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بشریٰ عمران خان کو بعد از گرفتاری ضمانت دے دی۔ بعد ازاں 2 نومبر 2024 کو ایف آئی اے نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ان کی ضمانت منسوخی کے لیے درخواست دائر کی۔ اسی روز دفاع نے دفعہ 249 اے کے تحت درخواست دائر کی، جس پر جزوی سماعت ہو چکی ہے۔ 12 دسمبر 2024 کو عدالت نے عمران خان اور بشریٰ عمران پر باضابطہ طور پر فردِ جرم عائد کر دی۔
ملزمان کا کردار
ایف آئی اے ریکارڈ کے مطابق عمران خان اور بشریٰ عمران 7 سے 10 مئی 2021 کے دوران سرکاری دورے پر مملکتِ سعودی عرب گئے، جہاں مبینہ طور پر بشریٰ عمران کو بلغاری جیولری سیٹ تحفے میں دیا گیا۔ باہمی قانونی معاونت اور بلغاری ایس پی اے اٹلی سے موصولہ جواب کے مطابق اس سیٹ کی مالیت تقریباً 71.5 ملین روپے بتائی گئی ہے۔
تحقیقات کے مطابق یہ جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہیں کرایا گیا، حالانکہ 18 دسمبر 2018 کے توشہ خانہ طریقہ کار کے تحت ایسا کرنا قانونی طور پر لازم تھا۔ الزام ہے کہ جیولری کو جسمانی طور پر جمع کرائے بغیر توشہ خانہ رجسٹر میں اندراج کیا گیا۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ جب جیولری کی قیمت کے تعین کا عمل شروع ہوا تو یہ سیٹ ایک شخص کے ذریعے نجی ویلیوایٹر سہیب عباسی کے پاس لے جایا گیا، جہاں مبینہ طور پر ملزمان کی ہدایات پر انتہائی کم قیمت لگوائی گئی۔ نجی ویلیوایٹر نے اس کی قیمت 5.859 ملین روپے مقرر کی، جسے کسٹمز حکام نے بغیر جسمانی معائنے کے میکانکی انداز میں منظور کر لیا۔
تحقیقاتی ادارے کے مطابق یہ جیولری وزیرِ اعظم اور خاتونِ اوّل کی حیثیت سے عمران خان اور بشریٰ عمران کے پاس امانت کے طور پر موجود تھی، جسے جان بوجھ کر جمع نہ کرا کر درست ویلیوایشن کا موقع ختم کیا گیا۔ ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ کم قیمت لگوا کر اور توشہ خانہ میں جمع نہ کرا کر قومی خزانے کو 32.851 ملین روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔
ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 409 کے تحت اعتماد میں خیانت اور انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) کے تحت مجرمانہ بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ایف آئی اے کا مؤقف ہے کہ ملزمان کے خلاف دستاویزی اور زبانی شواہد کی صورت میں وافر مواد موجود ہے اور دونوں اس مبینہ جرم کے فائدہ اٹھانے والے ہیں۔