امریکی انتظامیہ نے پاکستان کو امریکی ساختہ لوکوموٹیوز کی فروخت اور ملک میں موجود معدنی وسائل کے شعبے میں تعاون کی باضابطہ پیشکش کی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ بات چیت 2 ماہ قبل وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے واشنگٹن دورے کے دوران بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ’آئی ایم ایف‘ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران امریکی خصوصی معاونین ’ریمنڈ ایموری کاکس‘ اور ’رکی گِل‘ نے پاکستانی وفد سے ملاقاتیں کیں، جن میں امریکی تجارتی مفادات کے تحفظ کو ٹرمپ انتظامیہ کی اہم ترجیح قرار دیا گیا۔ ملاقاتوں میں دوطرفہ تجارتی تعاون بڑھانے اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
رپورٹ کے مطابق رکی گِل نے پاکستان سے امریکی لوکوموٹیوز کی خریداری کے لیے بھرپور حمایت کی درخواست کی، جس کے لیے پہلے ہی ٹینڈر جاری کیا جا چکا ہے۔ یاد رہے کہ چند سال قبل پاکستان نے امریکا سے 55 لوکوموٹیوز خریدے تھے، جو اس وقت پاکستان ریلویز کے بیڑے کا اہم حصہ ہیں۔
رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ پاکستان ریلویز اس وقت شدید مالی مشکلات کا شکار ہے اور نئے انجن خریدنے کے بجائے موجودہ لوکوموٹیوز کی مرمت اور بحالی پر انحصار کر رہا ہے۔ حال ہی میں 100 ڈیزل الیکٹرک لوکوموٹیوز کی مرمت کے منصوبے کی لاگت بڑھا کر 16 ارب روپے کر دی گئی ہے، جس سے ادارے پر مالی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے معدنی وسائل کے شعبے میں بھی پاکستان کے ساتھ تعاون کی خواہش کا اظہار کیا ہے، جس میں جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبے شامل ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ تعاون عملی شکل اختیار کرتا ہے تو پاکستان کی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو تقویت ملنے کے امکانات ہیں۔