پراپرٹی کا لین دین کرنے والے افراد کے لئے اہم خبر

پراپرٹی کا لین دین کرنے والے افراد کے لئے اہم خبر

اراضی ریکارڈ کے نظام کو شفاف، محفوظ اور قانونی تقاضوں کے مطابق بنانے کے لیے بورڈ آف ریونیو پنجاب نے ایک اہم اور فیصلہ کن اقدام اٹھاتے ہوئے پٹواریوں کو وراثت کے علاوہ تمام اقسام کی زبانی بیع اور انتقال درج کرنے سے روک دیا ہے۔

اس فیصلے کا باضابطہ نوٹیفکیشن بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کر دیا گیا ہے، جس کے بعد صوبے بھر میں زبانی لین دین کی بنیاد پر زمین کی منتقلی پر پابندی عائد ہو گئی ہے۔

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب میں زمین کی منتقلی کے تمام انتقالات اب زبانی لین دین، بیان یا دعوے کی بنیاد پر درج یا منظور نہیں کیے جائیں گے۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ زمین کی ملکیت یا حقوق کی منتقلی صرف اور صرف باقاعدہ رجسٹرڈ دستاویزات کی بنیاد پر ہی ممکن ہو گی۔ وراثت کے معاملات کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے اور قانون کے مطابق ان انتقالات کی منظوری کا عمل بدستور جاری رہے گا۔

بورڈ آف ریونیو کے مطابق زمین کے حقوق کی منتقلی، جن میں فروخت، رہن، تبادلہ اور ہبہ شامل ہیں، اب ایسی دستاویزات پر مبنی ہونا لازمی ہوگا جو دی رجسٹریشن ایکٹ 1908 اور دی ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ 1882 کے تحت باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ ہوں۔ اس اقدام کا مقصد غیر قانونی لین دین، جعلی انتقالات اور زمین کے تنازعات کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب پراپرٹی آنرشپ آرڈیننس رہ گیا تو جاتی امرا بھی آدھے گھنٹے میں خالی کرالیا جائےگا‘

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ وراثت سے متعلق انتقالات واحد استثنیٰ ہوں گے، کیونکہ یہ قانون کے تحت خودکار طریقہ کار کے مطابق انجام پاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی بھی قسم کا انتقال اگر زبانی لین دین، بیان یا غیر رجسٹرڈ دعوے کی بنیاد پر ہو گا تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس کی منظوری دی جائے گی۔

بورڈ آف ریونیو پنجاب نے تمام ریونیو افسران کو ہدایت جاری کی ہے کہ ان احکامات پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ نوٹیفکیشن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کسی بھی سطح پر خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس فیصلے کو صوبے میں اراضی کے نظام کو جدید، شفاف اور عوامی اعتماد کے مطابق بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

Related Articles