قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق اہم پیشرفت

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق اہم پیشرفت

  قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق ایک اہم آئینی پیش رفت سامنے آئی ہے  جہاں اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی پر اٹھائے گئے اعتراضات کے معاملے میں تمام متعلقہ دستاویزات باضابطہ طور پر اسپیکر آفس میں جمع کرا دی گئی ہیں۔ اس اقدام کو پارلیمانی عمل میں شفافیت اور آئینی تقاضوں کی تکمیل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

قومی اسمبلی کے ایڈوائزر محمد مشتاق نے دستاویزات وصول کرتے ہوئے بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ اس معاملے میں تحریری اور باقاعدہ جواب موصول ہوا ہے۔ ان کے مطابق جواب کی وصولی کے بعد اب قانونی اور آئینی طریقہ کار کے مطابق اگلے مراحل کا آغاز کیا جائے گا۔ ایڈوائزر نے واضح کیا کہ اسپیکر آفس تمام امور کو قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے آگے بڑھائے گا تاکہ کسی قسم کا ابہام یا تنازع کی گنجائش باقی نہ رہے۔

یہ بھی پڑھیں :محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد

اس موقع پر بیرسٹر گوہر نے بھی اپنی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے متعلق کوئی معاملہ اس وقت کسی عدالت میں زیر التوا نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ عدالتی رکاوٹ موجود نہیں، اس لیے پارلیمانی کارروائی کو بغیر کسی تاخیر کے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ بیرسٹر گوہر کی وضاحت کے بعد ایڈوائزر محمد مشتاق نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کے عہدے کو باضابطہ طور پر خالی قرار دیا جائے گا، جس کے بعد پوری اپوزیشن کو ہدایت دی جائے گی کہ وہ نئے امیدوار کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائیں۔

اسی دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن بلا تاخیر جاری کیا جائے۔ ان کا موقف ہے کہ ایوان کی کارروائی اور جمہوری عمل کے تسلسل کے لیے اپوزیشن لیڈر کا عہدہ فوری طور پر پُر ہونا نہایت ضروری ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق تاخیر سے نہ صرف اپوزیشن کے کردار پر اثر پڑتا ہے بلکہ پارلیمانی توازن بھی متاثر ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی نے اپوزیشن لیڈر اور ڈپٹی اپوزیشن لیڈر کا تقرر کر دیا

ایڈوائزر قومی اسمبلی نے اس بات پر زور دیا کہ اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کا پورا عمل مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دیا جائے گا۔ ان کے مطابق تمام قانونی اور آئینی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جائے گا تاکہ کسی بھی فریق کو اعتراض کا موقع نہ ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر آفس اس معاملے میں غیر جانبدار رہتے ہوئے صرف آئین اور قانون کی روشنی میں فیصلہ کرے گا۔

editor

Related Articles