وینزویلا فوجی آپریشن کیسے کیا گیا؟ امریکی ملٹری چیف نے تفصیلات بتادیں

وینزویلا فوجی آپریشن کیسے کیا گیا؟ امریکی ملٹری چیف نے تفصیلات بتادیں

امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے ایک اہم پریس کانفرنس میں وینزویلا میں کیے گئے فوجی آپریشن کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے براہِ راست احکامات پر عمل میں لائی گئی۔

جنرل ڈین کین کے مطابق اس آپریشن کا بنیادی مقصد وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو قانون کے کٹہرے میں لانا تھا، جس کے لیے کئی ماہ کی منصوبہ بندی اور طویل فوجی تجربے سے فائدہ اٹھایا گیا۔

پریس کانفرنس میں امریکی صدر اور وزیرِ دفاع بھی موجود تھے، جنرل ڈین کین نے بتایا کہ اس کارروائی میں امریکا کی زمینی، فضائی اور بحری افواج نے مشترکہ طور پر حصہ لیا جبکہ انٹیلی جنس اداروں کا کردار نہایت اہم رہا۔

ان کے مطابق سی آئی اے، این ایس اے اور نیشنل جیو اسپیشل ایجنسی سمیت متعدد انٹیلی جنس اداروں کے تعاون کے بغیر یہ مشن ممکن نہیں تھا، آپریشن کو اس طرح ترتیب دیا گیا کہ فوجی نقصانات کم سے کم ہوں اور فیصلہ کن نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

امریکا وینزویلا کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کرے،چین اور فرانس کا ردعمل

امریکی ملٹری چیف کے مطابق کارروائی میں 150 سے زائد طیاروں نے حصہ لیا، جن میں جدید لڑاکا اور بمبار طیارے شامل تھے، مختلف بری اور بحری اڈوں سے طیاروں کو روانہ کیا گیا، جن میں ایف-22، ایف-35، ایف-18، ای اے-18، ای-2 اور بی-ون بمبار کے علاوہ ٹرانسپورٹ طیارے بھی شامل تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی جوائنٹ فورسز کے لیے ناکامی کوئی آپشن نہیں تھی اسی لیے درست وقت کے انتخاب پر خاص توجہ دی گئی انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی امریکی فورسز کاراکاس کے قریب پہنچیں، وینزویلا کے فضائی دفاعی نظام کو ناکارہ بنانا شروع کیا گیا تاکہ ہیلی کاپٹروں کو ہدف تک محفوظ راستہ فراہم کیا جا سکے۔

مقامی وقت کے مطابق رات دو بجے فورسز مادورو کے کمپاؤنڈ میں داخل ہوئیں، اس دوران امریکی ہیلی کاپٹروں کو فائرنگ کا سامنا بھی کرنا پڑا اور ایک ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا گیا تاہم وہ پرواز کے قابل رہا اور کوئی بڑا جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔

جنرل ڈین کین کے مطابق آپریشن مکمل ہونے کے بعد امریکی وزارتِ انصاف نے نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا، جبکہ واپسی کے دوران خود دفاع کے تحت متعدد اقدامات بھی کیے گئے،تمام امریکی طیارے اور فورسز بحفاظت واپس اپنے اڈوں پر پہنچ گئیں ادھر وینزویلا کی جانب سے اس کارروائی کو کھلی جارحیت قرار دیا گیا ہے۔ وینزویلا کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کا اصل مقصد ملک کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔

editor

Related Articles