وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکی فوج کی کارروائی کے بعد نیویارک منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں آج عدالت میں پیش کیا جائے گا۔مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورز کو کاراکاس سے امریکی فوج نے گرفتار کیا اور نیویارک لے جایا،امریکی حکام کے مطابق مادورو کے خلاف متعدد منشیات سے متعلق الزامات کے علاوہ سازش کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں اور انہیں بروکلن کے مشہور میٹروپولیٹن ڈٹینشن سینٹر میں رکھا جائے گا۔
میٹروپولیٹن ڈٹینشن سینٹر اپنی سخت اور “غیر انسانی” سکیورٹی کے لیے مشہور ہے اور یہاں جوآکین گوزمین، شان کومبس، لوئیجی مینگیون اور گھیسلین میکسویل جیسے مشہور قیدی بھی رہ چکے ہیں۔
کاراکاس میں مادورو کی گرفتاری کے دوران متعدد دھماکے ہوئے اور کم اونچائی پر طیارے پرواز کرتے رہے، جس سے شہر میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی۔ مادورو کے حامی سڑکوں پر نکل آئے جبکہ دیگر افراد نے خوشی کا اظہار کیا اور امن کی بحالی کی امید ظاہر کی۔
کینیڈا سمیت کئی ممالک نے صورتحال پر محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے، اور شہریوں کو وینزویلا کا سفر نہ کرنے کی ہدایت دی ہے، کینیڈا نے اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے سفارتخانے اور قونصلر سروسز کے ذریعے مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔مادورو کی عدالت میں پیشی اور قانونی کارروائی وینزویلا میں سیاسی اور انسانی حقوق کی صورتحال پر عالمی توجہ مرکوز کرے گی ۔
Maduro has been off loaded from the plane. He was taken from Venezuela early this morning and now has landed in new york on his way to court in Manhattan pic.twitter.com/f0b50uruBM
— Ali (@MerruX) January 3, 2026

