وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولن الرجی کے دیرینہ مسئلے کے خاتمے کے لیے حکومت نے ایک جامع، سائنسی اور تاریخی مہم مکمل کر لی ہے، جس کے نتیجے میں شہریوں کو بڑی حد تک ریلیف ملنا شروع ہو گیا ہے۔
وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار احمد ملک کی صدارت میں پولن الرجی کے خاتمے کے لیے تفصیلی روڈ میپ تیار کیا گیا، جس پر سی ڈی اے اور وزارتِ قومی صحت نے مشترکہ طور پر عملدرآمد کیا۔
اعلامیے کے مطابق اسلام آباد میں پولن الرجی کا سبب بننے والے پیپر ملبری درختوں کے خلاف 3 مرحلوں پر مشتمل سائنسی آپریشن مکمل کیا گیا، جس کے تحت وفاقی دارالحکومت سے مجموعی طور پر 29,115 پولن الرجی والے پیپر ملبری درخت ہٹا دیے گئے۔ یہ درخت خاص طور پر ایف نائن پارک، شکر پڑیاں اور مختلف بڑے سیکٹرز میں موجود تھے، جو ہر سال موسمِ بہار میں الرجی کے شدید مسائل کا باعث بنتے تھے۔
حکام کے مطابق اس مہم کے دوران صرف پیپر ملبری درختوں کو ہدف بنایا گیا، جبکہ مقامی اور غیر الرجینک درختوں کو مکمل طور پر محفوظ رکھا گیا۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ ہر اکھاڑے گئے درخت کے بدلے تین نئے مقامی اور ماحول دوست درخت لگانے کا فیصلہ کیا گیا، تاکہ ماحولیاتی توازن برقرار رکھا جا سکے۔
اعلامیے کے مطابق اب تک متاثرہ علاقوں میں 40 ہزار سے زیادہ نئے درخت لگائے جا چکے ہیں، جبکہ نجی شعبے اور او جی ڈی سی ایل کے تعاون سے مزید 18 ہزار درخت لگانے کے لیے ٹینڈر بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شکرپڑیاں کے علاقے میں 81 ایکڑ رقبے پر بحالی اور شجرکاری کا کام جاری ہے، جسے اپریل 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
حکومتی اقدامات کے مثبت اثرات بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اعلامیے کے مطابق اس مہم کے نتیجے میں پولن الرجی کے مریضوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ گزشتہ 2 سال کے دوران پولن ویکسینیشن کیسز میں 23 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ 2023 کے مقابلے میں 2025 میں الرجی کیسز نصف سے بھی کم رہ گئے ہیں۔
مزید بتایا گیا ہے کہ نومبر اور دسمبر 2025 کے دوران پولن الرجی کے کیسز ریکارڈ حد تک کم رپورٹ ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومتی حکمت عملی مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق اگر یہی اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رہے تو آئندہ برسوں میں اسلام آباد کو پولن الرجی سے بڑی حد تک محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
شہریوں اور ماہرین ماحولیات نے اس اقدام کو ایک تاریخی اور مثال قائم کرنے والا قدم قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی اسی طرز کی سائنسی اور مربوط مہمات شروع کی جائیں، تاکہ عوام کو موسمی الرجی جیسے مسائل سے مستقل نجات مل سکے۔