پاکستان کے شہری نوجوانوں پر مشتمل پولیٹیکل سروے 2026 میں ملکی سیاست، حکمرانی اور ریاستی اداروں سے متعلق اہم اور دور رس رجحانات سامنے آئے ہیں۔ 25 ہزار سے زائد نوجوانوں پر کیے گئے اس سروے کے مطابق اگرچہ معاشی دباؤ بدستور نوجوانوں کی زندگیوں پر حاوی ہےتاہم مجموعی طور پر ملکی سمت، حکومتی کارکردگی اور اداروں پر اعتماد میں واضح بہتری دیکھی گئی ہے۔
سروے نتائج کے مطابق پاکستان کو درست سمت میں جاتا دیکھنے والے نوجوانوں کی شرح 2024 میں صرف 8 فیصد تھی جو 2026 میں بڑھ کر 26 فیصد تک پہنچ گئی ہےجبکہ ملک کو غلط سمت میں جاتا سمجھنے والوں کی تعداد 79 فیصد سے کم ہو کر 46 فیصد رہ گئی۔ اگرچہ مایوسی اب بھی نمایاں ہے تاہم اعداد و شمار نوجوانوں کے رویے میں تدریجی مثبت تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔
فوج پر عوامی اعتماد میں نمایاں اضافہ
سروے کا سب سے نمایاں اور توجہ طلب پہلو نوجوانوں کا فوج پر بڑھتا ہوا اعتماد ہے اعداد و شمار کے مطابق 2026 میں فوج کی کارکردگی پر اوسط ریٹنگ 3.36 ریکارڈ کی گئی، جو 2025 میں 2.78 اور 2024 میں 2.57 تھی۔ یوں فوج وہ ریاستی ادارہ بن کر ابھری ہے جس پر عوامی اعتماد میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا]اس کے علاوہ عدلیہ، پولیس، پارلیمنٹ اور سول سروس پر اعتماد میں بھی بہتری ریکارڈ کی گئی تاہم سیاست دان مجموعی طور پر اب بھی عوامی اعتماد کے حوالے سے سب سے کم درجہ رکھتے ہیں۔
حکومت کی کارکردگی، صوبے وفاق سے آگے
سروے کے مطابق موجودہ حکومت سے مجموعی اطمینان کی شرح 2026 میں 40 فیصد تک پہنچ گئی ہےجو گزشتہ برس 27 فیصد تھی۔ نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوان وفاقی حکومت کے مقابلے میں صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کو بہتر تصور کرتے ہیں صوبائی حکومتوں سے اطمینان 43 فیصد جبکہ وفاقی سطح پر یہ شرح 38 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
سیاسی میدان میں کانٹے دار مقابلہ
پی ٹی آئی کی مقبولیت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فیصد کمی جبکہ مسلم لیگ (ن) کی حمایت میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ 24 فیصد نوجوان تاحال غیر فیصلہ شدہ ہیں جو آئندہ سیاسی منظرنامے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔
گزشتہ ایک دہائی میں ترقیاتی کاموں میں کردار کے حوالے سے ن لیگ کو 47 فیصد جبکہ پی ٹی آئی کو 46 فیصد نوجوانوں نے بہتر قرار دیا، جو دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان تقریباً برابری کی نشاندہی کرتا ہے سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نوجوانوں میں اب ایک واضح، سخت اور کانٹے دار سیاسی مقابلے کا آغاز ہو چکا ہے۔
نوجوانوں کی ترجیحات، معیشت سب سے بڑا چیلنج
سروے کے مطابق نوجوانوں کے نزدیک حکومت کی اولین ترجیحات میں تعلیم، صحت، سماجی بہبود، انفراسٹرکچر اور معاشی اصلاحات شامل ہیں جنہیں 60 فیصد سے زائد نوجوانوں نے یکساں اہم قرار دیا تاہم معاشی دباؤ بدستور سب سے بڑا مسئلہ قرار پایا، جہاں 70 فیصد نوجوانوں نے بے روزگاری کو سب سے بڑا چیلنج بتایا۔ 55 فیصد نوجوانوں کے مطابق گزشتہ ایک سال میں ان کی ذاتی مالی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔
سیاسی شمولیت میں اضافہ
سروے نتائج کے مطابق نوجوانوں کی سیاسی دلچسپی میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 70 فیصد نوجوان ووٹ ڈالنے کے خواہش مند ہیں جبکہ 74 فیصد نوجوان رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،حکومت کی جانب سے اصلاحات کے نفاذ کی صلاحیت پر اعتماد بھی 22 فیصد سے بڑھ کر 29 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
پولیٹیکل سروے 2026 اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ شہری نوجوانوں میں محتاط مگر واضح امید جنم لے رہی ہے۔ فوج پر اعتماد میں نمایاں طور پر اضافہ ہوا ہے، سیاسی مقابلہ شدید تر ہو چکا ہے اور نوجوان ایک بار پھر سیاسی عمل میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم معاشی مشکلات اور روزمرہ زندگی کا دباؤ اب بھی سب سے بڑا چیلنج ہیں۔ نوجوانوں کا واضح پیغام ہے کہ وہ نعروں کے بجائے دیانت دار قیادت، مؤثر حکمرانی اور حقیقی معاشی ریلیف چاہتے ہیں۔