وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک حکومت اور سکیورٹی ادارے چین سے نہیں بیٹھیں گے اور اس ناسور کے خلاف جنگ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی پاکستان کے امن، معیشت اور قومی یکجہتی کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے اور اس کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں افواجِ پاکستان کی بھرپور اور مؤثر قیادت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں مثالی قربانیاں دے رہی ہیں اور قوم ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔ وزیر اعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست اپنے محافظوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور انہیں ہر ممکن وسائل اور سیاسی حمایت فراہم کی جا رہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دورۂ کوئٹہ کے دوران سیاسی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج بلوچستان آ کر دلی خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد چیلنجز کے باوجود بلوچستان کی کابینہ اور اس کی قیادت عوامی خدمت کے جذبے کے تحت دن رات کام کر رہی ہے جو قابلِ تحسین ہے۔ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ بلوچستان کو بگٹی قبائل کے سربراہ منتخب ہونے پر مبارک باد بھی پیش کی اور اسے صوبے کیلئے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جس طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، اسی طرح بلوچستان بھی دہشت گردی سے متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے پاک فوج، لیویز، پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان جوانوں کی بدولت ملک کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک حکومت چین سے نہیں بیٹھے گی اور اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل افواجِ پاکستان کو ساتھ لے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت کر رہے ہیں اور 10 مئی کو بھارت کے خلاف معرکے میں بھی افواج کی مؤثر قیادت کی جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔
انہوں نے بلوچستان کو پاکستان کا خوبصورت اور قیمتی حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی ترقی دراصل پاکستان کی ترقی ہے۔ وزیراعظم نے این ایف سی ایوارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2010 میں اس وقت کے وزیراعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی نے واضح مؤقف اختیار کیا تھا کہ اگر بلوچستان کے حصے میں 100 فیصد اضافہ نہ کیا گیا تو وہ دستخط نہیں کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس موقع پر پنجاب نے اپنے حصے میں سے 11 ارب روپے بلوچستان کو دیے، جو بین الصوبائی ہم آہنگی کی مثال ہے۔ اب این ایف سی ایوارڈ کیلئے نئی کمیٹی قائم کی جا چکی ہے تاکہ صوبوں کے حقوق کا منصفانہ تعین کیا جا سکے۔
وزیراعظم نے ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی سے چمن تک سڑک 300 ارب روپے کی لاگت سے زیرِ تعمیر ہے، جو بلوچستان کی معاشی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اس کے علاوہ صوبے میں پانچ دانش اسکول قائم کیے جا رہے ہیں، جہاں غریب اور مستحق بچوں اور بچیوں کو معیاری تعلیم فراہم کی جائے گی۔