تحریک تحفظ آئین پاکستان کے لوگ تانگے کی سواریاں ہیں،عطاء تارڑ

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے لوگ تانگے کی سواریاں ہیں،عطاء تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے تحریک تحفظ آئین پاکستان سے وابستہ افراد کو تانگے کی سواریاں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تحریک کی سیاسی حیثیت اسی حد تک ہے اور اس پر مزید بات کرنا بھی غیر ضروری ہے۔

انہوں نے یہ ریمارکس لاہور میں جامعہ اشرفیہ کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو میں دیے جہاں وہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ معروف عالمِ دین مولانا فضل الرحیم کے انتقال پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کے لیے پہنچے تھے۔

یہ بھی پڑھیں :نومئی کیا ہے بھگتنا پڑے گا،پی ٹی آئی والے شورنہ مچائیں ، عدالت جائیں،عطاتارڑ

دونوں وفاقی وزرا نے مرحوم عالمِ دین کے صاحبزادوں سے ملاقات کی اور ان کے غم میں برابر کے شریک ہونے کا اظہار کیا اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ نے تحریک تحفظ آئین پاکستان پر سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ ایک غیر مؤثر اور محدود سوچ کی حامل تحریک ہے جسے ضرورت سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوامی مفاد کے معاملات پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے اور ایسی سیاسی سرگرمیوں سے مرعوب نہیں ہوگی،دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا کہ ملک میں قانون نافذ کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اگر ضرورت پیش آئی تو اس ذمہ داری کو پوری قوت کے ساتھ ادا کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں :تحریک انصاف نوسربازوں کی جماعت ہے، فیک ویڈیوز پھیلائیں، عطاتارڑ

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا عمل اُن حلقوں کی جانب سے ہونا چاہیے جن کا یہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار ہے، تاہم امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا محسن نقوی نے مزید کہا کہ احتجاج اور دھرنوں سے نمٹنے کا تجربہ حکومت کے پاس پہلے سے موجود ہے اور اگر مستقبل میں ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو مناسب اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انہوں نے زور دیا کہ علما کرام کا احترام ریاست کی اولین ترجیح ہے تاہم ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے بارے میں قرآن پاک میں واضح احکامات موجود ہیں اور ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ناگزیر ہوتی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *