وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ملک میں تجارتی تنازعات کے فوری اور مؤثر حل کے لیے تجارتی عدالتوں (کمرشل کورٹس) کے قیام سے متعلق اہم اور بڑا قانونی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت نئی قانون سازی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس مقصد کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو تجارتی عدالتوں کے قیام سے متعلق مسودۂ قانون تیار کرے گی اور ملک میں کمرشل ڈسپیوٹس کے موجودہ نظام کا تفصیلی جائزہ لے کر اصلاحات کی سفارشات پیش کرے گی۔
کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کو سونپی گئی ہے جبکہ اٹارنی جنرل، وزیرِ مملکت برائے خزانہ اور دیگر قانونی و تکنیکی ماہرین بھی اس میں شامل ہوں گے۔ کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تجارتی تنازعات کے مؤثر اور تیز تر حل کے لیے قابل عمل قانونی فریم ورک تیار کرے۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی نہ صرف موجودہ عدالتی نظام میں تجارتی مقدمات کے طریقہ کار کا جائزہ لے گی بلکہ نئے مجوزہ قانون کے بنیادی قانونی نکات اور ڈھانچے پر مشتمل تفصیلی رپورٹ بھی تیار کرے گی۔
مزید بتایا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم نے ثالثی (آربٹریشن) کے قانون سے متعلق پیش رفت کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت جاری کی ہے، تاکہ کاروباری طبقے کو فوری انصاف کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنایا جا سکے۔
حکومتی فیصلے کے مطابق کمیٹی سنگاپور کنونشن کے تحت پاکستان کی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کو ملکی قانون کا حصہ بنانے کے حوالے سے بھی سفارشات مرتب کرے گی۔
وزارتِ قانون و انصاف اس کمیٹی کو سیکریٹریل معاونت فراہم کرے گی، جبکہ کمیٹی کو اپنی سفارشات اور حتمی رپورٹ 45 روز کے اندر وزیرِ اعظم کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکومت کے اس اقدام کو ملک میں کاروباری سہولت، سرمایہ کاری کے فروغ اور تجارتی تنازعات کے تیز تر حل کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔