وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کی کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے حوالے سے کئی سوالات اٹھ رہے ہیں اور بعض آڈیوز بھی سامنے آ رہی ہیں جن میں پسِ پردہ کرداروں کی نشاندہی ہورہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے مجموعی 38 مطالبات میں سے 35 مطالبات پر پیش رفت ہو چکی ہے اور زیادہ تر مسائل پر حکومت نے اقدامات کیے ہیں، جن میں بجلی اور آٹے پر سبسڈی جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔
وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ اس سب کے باوجود بعض نئے مطالبات سامنے آ رہے ہیں جن میں مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی شامل ہے، جو ایک پیچیدہ اور آئینی معاملہ ہے۔
انہوں نے ایوان کو بتایا کہ آزاد کشمیر میں اس معاملے پر مختلف سطحوں پر مشاورت ہوئی ہے، اور سپریم کورٹ میں بھی اس حوالے سے قانونی عمل جاری ہے جس میں آئندہ اسمبلی کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ تحریک کے پیچھے بیرونی اثرات موجود ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے مختلف دعوے اور آرا سامنے آ رہی ہیں جن کی جانچ جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت آئینی اور قانونی طریقے کے مطابق تمام معاملات حل کرنے کے لیے تیار ہے اور سیاسی جماعتوں سے بھی بات چیت کا راستہ کھلا ہے۔
بعد ازاں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ محدود وسائل کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے اور وزیراعظم کی ہدایت ہے کہ عوامی سہولت کو اولین ترجیح دی جائے۔